پاکستان میں صوبہ پنجاب کے علاوہ حکومت سازی کا پہلا مرحلہ مکمل

پاکستان میں عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کا مرحلہ شروع ہو گیا ہے جس میں پیر کو قومی اسمبلی کے علاوہ صوبہ سندھ، صوبہ خیبر پختونخوا اور صوبہ بلوچستان میں نومنتخب ارکان پارلیمان نے حلف اٹھایا ہے۔
قومی اسمبلی کے 329 ارکان، سندھ اسمبلی کے 165 ارکان، بلوچستان اسمبلی کے 60 ارکان اور خیبر پختونخوا کے 112 ارکان نے حلف اٹھایا جبکہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس بدھ کو ہو گا جہاں تحریک انصاف حکومت بنانے کی سب سے بڑی دعوے دار ہے جبکہ مسلم لیگ نون نے بھی حکومت بنانے کا دعویٰ کر رکھا ہے تاہم حالیہ دنوں اس کی جانب سے حکومت کے برعکس مضبوط حزب اختلاف کی باتیں زیادہ سامنے آ رہی ہیں۔
قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں حلف برادری کے بعد اگلے مرحلے میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہو گا اور اس کے بعد قائد ایوان کا انتخاب کیا جائے گا اور آخری مرحلے میں وزیراعظم اور وزراء اعلی حلف لینے کے بعد اپنی کابینہ تشکیل دیں گے اور یوں منتقل اقتدار کا مرحلہ اپنے انجام کو پہنچے گا۔
پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو کے مصافحے کو خصوصی کوریج دی گئی۔
حزب اختلاف کی جماعتوں نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف ایوان میں آواز بلند کرنے کا اعلان کر رکھا ہے تاہم پیر کو اجلاس کے موقع پر کوئی ہنگامہ آرائی دیکھنے میں نہیں آئی اور صرف مہمانوں کی گیلری سے سیاسی نعرے بلند ہوئے جنھیں سپیکر قومی اسمبلی ایازق صادق نے خاموش کروا دیا۔
پاکستان کی قومی اسمبلی، صوبہ سندھ اور بلوچستان میں نومنتخب ارکان اسمبلی کے حلف اٹھانے اور اس کے بعد ارکان نے رولز آف ممبرز کے رجسٹر پر دستخط کیے جانے کے بعد پہلا مرحلہ ختم ہونے کے بعد سندھ اسمبلی کا اجلاس بدھ تک جبکہ بلوچستان اسمبلی کا اجلاس جمعرات تک جبکہ قومی اسمبلی کا جلاس بدھ تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں