پنجاب اسمبلی اجلاس: تحریک انصاف کے سردار عثمان بزدار وزیراعلیٰ منتخب

لاہور: پنجاب اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی کی زیرصدارت ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا جس کے بعد وزیراعلی پنجاب کے انتخاب کیلئے رائے شماری کا عمل ڈویژن ووٹنگ کے ذریعےمکمل کیا گیا. تحریک انصاف اورمسلم لیگ ق کے وزیراعلی کے لئے مشترکہ امیدوار سردار عثمان بزدار ہیں اور مسلم لیگ ن نے وزیراعلی پنجاب کے انتخاب کے لئے حمزہ شہباز کو میدان میں اتارا ہے ۔ عثمان بزدار کو تحریک انصاف کے 175 جبکہ مسلم لیگ ق کے10ارکان اسمبلی کی حما یت حاصل ہے. مسلم لیگ ن کے پنجاب کے ایوان میں 162 ارکان ہیں تاہم وزیراعلی پنجاب کون ہو گا، آج ایوان اگلے پانچ سال کیلئےحتمی ٖفیصلہ دے گا۔
پنجاب اسمبلی میں آج قائد ایوان کے انتخاب کیلئے پولنگ مکمل ہو گئی، قبل ازیں اجلاس ایک گھنٹہ 15 منٹ تاخیر سے شروع ہوا، اجلاس کے آغاز کا وقت 11 بجے صبح طے کیا گیا تھا جو کہ 12:15 پر شروع ہوا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی نے تلاوت قرآن مجید کے بعد اجلاس کا باقاعدہ آغاز کیا۔ ووٹنگ کا عمل خفیہ رائے شماری کی بجائے ڈویژن رائے شماری کا طریقہ اپنایا گیا۔
وزیراعلی کے انتخاب کیلئے حمزہ شہباز اور عثمان بزدار کے درمیان مقابلہ ہے۔ سردار عثمان بزدار عام انتخابات میں پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 286 ڈیرہ غازی خان سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر 27 ہزار 27 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔ یہ ڈی جی خان کے قبائلی علاقے بارتھی سے تعلق رکھتے ہیں اور قبائلی سردار فتح محمد خان بزدار کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ میاں حمزہ شہباز شریف پی پی 146سے مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر 71 ہزار 389 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔ حمزہ شہباز صدر مسلم لیگ ن اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے صاحبزادے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے پنجاب اسمبلی میں اکثریت کا دعویٰ کیا ہے، چودھری سرور کا کہنا ہے کہ عثمان بزدار واضح مارجن سے جیتیں گے۔ علیم خان نے فور ممبر گورنس فارمولے کی خبروں کو مسترد کردیا۔ دوسری جانب ن لیگی رہنماء کا کہنا ہے کہ عثمان بزدار وزیراعلیٰ بنے تو زیادہ دیر نہیں چلیں گے، خواجہ عمران نذیر نے تحریک انصاف میں فاروڈ بلاک بننے کی پیش گوئی بھی کردی۔
راہ حق پارٹی کا ایک رکن اور 3 آزاد اراکین بھی ووٹنگ میں حصہ لیں گے تاہم پیپلز پارٹی نے ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں