بجلی وگیس کا فرسودہ نظام، قرض در قرض کی روش دلدل میں دھکیل دیگی

کراچی: بجلی اورگیس کا فرسودہ ترسیلی نظام اور حکومتی فیصلوں میں تاخیر کے باعث بروقت اصلاحات نہ ہوئیں تو قرض برائے قرض کی روش جاری اور حکومت گردشی قرضوں کے دلدل میں دھنستی رہے گی۔
بجلی کے ترسیلی نظام میں خرابی کے باعث لائن لاسز ہو تو حکومت بھرے، بجلی اور گیس کا بے دریغ استعمال اور بل بھی ادا نہ کئے جائیں، تب بھی حکومت بھرے۔ عالمی منڈی سے مہنگی گیس خرید کرعوام کو سستی داموں فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی حکومت کی یعنی کرے کوئی بھرے کوئی، دھڑا دھڑ سبسیڈی دی جارہی ہے۔ اعدادو شمار کے مطابق حکومت ہر سال 50 سے 75 ارب روپے کی سبسڈی بجلی اور گیس کی مد میں عوام پر لٹا رہی ہے۔ جس کے باعث گردشی قرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے، سابق دور حکومت میں 503 ارب روپے کا گردشی قرضہ تو ختم کردیا گیا مگر اس گردشی قرضوں کوسرے سے ختم کرنے کے کوئی خاص اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔
پانچ سال سے نہ تو گیس کی قیمت بڑھائی گئی نہ ہی تین سال سے بجلی کی قیمت میں اضافہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ گردشی قرضے ایک بار پھر 600 ارب تک پہنچ چکے ہیں، پی ایس او کو مختلف اداروں سے 330 ارب روپے، سوئی سدرن گیس کمپنی کو 170 ارب روپے، اوجی ڈی سی کو 160 ارب روپے اور کے الیکٹرک کو مختلف اداروں سے 114 ارب روپے کی وصولیاں کرنی ہیں۔دوسری جانب ایشیائی ترقیاتی بینک کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں گردشی قرضوں کا حجم 1400 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جس کے لئے حکومت کو بجلی اور گیس کی قیمتوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حکومت ماضی کی ڈگر پر چلتی رہی اور بڑے فیصلے نہ کئے تو قرض برائے قرض کا سلسلہ جاری رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں