قندیل بلوچ قتل کیس نیا رخ اختیار کر گیا

ماڈل کے والدین نے کیس کے مرکزی ملزم بیٹے کی ضمانت کے لیئے عدالت میں بیان حلفی جمع کرا یا، والدین کا کہنا ہے کہ عدالت چاہے تو ملزم کو ضمانت پر رہا کر سکتی ہے۔
قندیل بلوچ قتل کیس میں مرکزی ملزم وسیم کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری کی سماعت سیشن جج کی عدالت میں ہوئی جہاں قندیل بلوث کے والدین عظیم ماہڑہ اور انور بی بی نے عدالت میں بیان حلفی جمع کرایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر مرکزی ملزم وسیم کی ضمانت لی جاتی ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے تاہم عدالت نے والدین کی جانب سے بیان حلفی جمع کرانے کے باوجود مرکزی ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کر دی ہے۔
اس سے پہلے قندیل بلوچ کے والدین اپنے بیٹے کو بچانے کے لیئے عدالت میں مرکزی ملزم کے حق میں بیان دے چکے ہیں۔
15 یاد رہے کہ جولائی 2016 کو قندیل بلوچ کو سوتے میں قتل کر دیا گیا۔ پولیس کی تحقیقات سے پتہ چلا کہ انھیں گلا گھونٹ کر مارا گیا تھا۔ قندیل کے بھائی وسیم نے شروع میں گرفتاری کے بعد اعتراف کیا تھا کہ یہ جرم انھوں نے کیا ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ قندیل بلوچ خاندان کے لیے رسوائی کا سبب بن رہی تھیں لیکن بعد میں جب ان پر باقاعدہ فرد جرم عائد کی گئی تو انہوں نے اس سے انکار کر دیا تھا۔ دسمبر 2016 میں ملتان پولیس نے تین ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی جن میں مقتولہ کا بھائی وسیم، حق نواز اور عبد الباسط شامل تھے۔ تینوں نے صحت جرم سے انکار کر دیا۔
ان ملزمان کے خلاف قتل اور اعانت مجرمانہ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔مقتولہ کے والد عظیم نے قتل کا قصووار مفتی عبدالقوی کو ٹھہراتے ہوئے کہا تھا کہ انھوں نے ملزمان کو اس قتل پر اکسایا ہے۔ پولیس نے مفتی عبدالقوی کو بھی شاملِ تفتیش کر لیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں