30

کراچی میں پولیس مقابلہ: گینگ وار کمانڈر غفار ذکری ساتھی سمیت ہلاک

کراچی کے علاقے لیاری میں بدنام زمانہ گینگ وار کا اہم کردار غفار زکری ساتھی کے ساتھ پولیس مقابلے میں مارا گیا، غفار زکری درجنوں مقدمات میں ملوث تھا، کارروائی کے دوران 2 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

لیاری اور ملحقہ علاقوں کے امن و سکون کو تہس نہس کرنے والا درجنوں مقدمات میں ملوث لیاری گینگ وار کا بدنام زمانہ کردار غفار زکری پولیس مقابلے میں ساتھی سمیت مارا گیا، ساتھی کی شناخت تا حال نہ ہو سکی۔ پولیس مقابلہ لیاری کے علی محمد محلے میں ہوا جس میں گینگ وار کے ملزمان مارے گئے۔

ملزمان کی لاشیں سول ہسپتال کے مردہ خانے منتقل کر دی گئی ہیں، فائرنگ کی زد میں آ کر 3 سالہ بچہ بھی جاں بحق ہوا، پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ آدھے گھنٹے تک جاری رہا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے ملزمان میں لیاری گینگ وار کے اہم کردار غفار زکری کے خلاف 100 سے زائد سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہیں۔

غفار زکری لیاری گینگ وار کے ایک گروہ کے مارے جانے والے سربراہ ارشد پپو کا قریبی ساتھی بھی تھا۔ فائرنگ کے تبادلے میں 2 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق ایس آئی عطااللہ کو کمر میں جبکہ کانسٹیبل میر عابد کو پاؤں اور سینے میں گولی لگی، دونوں زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، علاقے کو رینجرز اور پولیس نے گھیرے میں لے لیا ہے۔

ایڈیشنل آئی جی امیر احمد شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا غفار ذکری قتل کےمقدمات، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان میں ملوث تھا، اس پر 100 سے زائد مقدمات تھے، مقابلے میں غفار ذکری کا ساتھی بھی ہلاک ہوا، غفار ذکری کے سر کی قیمت 25 لاکھ روپے تھی۔

امیر احمد شیخ نے کہا کہ پولیس ٹیم کیلئے 5 لاکھ روپےاپنی طرف سے اعلان کرتا ہوں، آئی جی صاحب کو 10 لاکھ روپےانعام کیلئے لکھا ہے، کارندوں کی فوج کیلئے جرائم ہی ذریعہ معاش ہے، غفار ذکری کے کارندوں سے ابھی جنگ جاری ہے۔

یاد رہے لیاری کے ذکری محلے سے تعلق رکھنے والا غفار ذکری نے 25 سال قبل جرائم کی دنیا میں قدم رکھا اور پھر دہشت کی دنیا میں اتنا نام کمایہ کہ گینگ وار کا کمانڈر بن گیا۔ ابتدا میں غفار ذکری لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیز بلوچ کے گروہ کا حصہ رہا، عزیز بلوچ سے اختلاف کے بعد ارشد پیو کے ہمراہ اپنا گروپ تشکیل دے دیا۔

2013 میں کراچی آپریشن شروع ہوا اور عزیز بلوچ کی گرفتاری عمل آئی تو درجنوں معصوم شہریوں کے خون سے کھیلنے والا غفار ذکری لیاری چھوڑ گیا اور کئی سالوں تک روپوش رہا۔ 2 روز قبل بلوچستان سے لیاری واپسی پر موت غفار ذکری کا انتظار کر رہی تھی۔

لیاری گینگ وار کے ہلاک دہشتگرد کے سر کی قیمت 25 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی جبکہ خلاف قتل، اقدام قتل، اغوا برائے تاوان اور بھتہ وصولی کی کئی وارداتوں کے سلسلے میں مختلف تھانوں میں 100 سے متعدد مقدمات درج ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں