24

سرگودھا کی مہرین کی جان لیوا مرض ڈائریا کیخلاف جدوجہد

سرگودھا کے گاؤں دھوری سے تعلق رکھنے والی لڑکی مہرین نے ڈائریا کے خلاف اکیلے جدوجہد کا آغاز کیا اور صحت مند پاکستان کا یہ پیغام اب گاؤں گاؤں پہنچ رہا ہے۔

لگ بھگ 15 ہزار نفوس پر مشتمل سرگودھا میں واقعے دھوری نامی ایک گاوں ہے، جس کے مسائل غربت سے شروع ہوتے ہیں اور گندے پانی سے ہوتے ہوئے بچوں میں جان لیوا مرض ڈائریا تک جا پہنچتے ہیں۔ ڈائریا جیسے مرض کو شکست دینے کے لیے ریکٹ بینکیرز نے برطانوی حکومت کے تعاون سے صحت و صفائی کے پیغام کو عام کرنے کے لیے ہوپ نامی پراجیکٹ کا آغاز کیا۔

اس پرواجیکٹ کا دو سال قبل سب سے پہلا حصہ مہرین نامی لڑکی بنی جسے اس مشن کو آگے بڑھانے میں کئی مشکلات کو اٹھانا پڑا۔ مہرین کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہے، اس پراجیکٹ کے ذریعے وہ گھر گھر صفائی پیغام کو عام کر رہی ہیں۔ مہرین سے شروع ہونے والے اس قافلے میں اب 65 خواتین شامل ہو چکی ہیں جو صاف صحت مند پاکستان کے وژن پورے ملک میں پھیلانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

ریکٹ بینکیزر کے کنٹری مینیجر کہتے ہیں کہ آئندہ پانچ برسوں میں پانچ ہزار گاؤں میں صحت و صفائی کے اس پیغام کو عام کرنا ہے۔ ریکٹ بینکیزر نے برطانوی حکومت کے اشتراک سے ڈائریا کو شکست دینے اور صحت مند پاکستان کے پیغام کو 10 لاکھ گھروں تک پہنچانے کا ہدف رکھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں