40

نواز شریف اور شاہد خاقان بغاوت کیس میں لاہورہائیکورٹ میں پیش

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے نواز شریف، شاہد خاقان عباسی اور سرل المیڈا کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی سماعت کی۔ ہائی کورٹ نے نواز شریف، شاہد خاقان عباسی اور سرل المیڈا کو تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیے۔ عدالت نے کیبنٹ ڈویژن سے بھی تفصیلی جواب طلب کرتے ہوئے درخواست کی سماعت 22 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

فل بنچ نے اٹارنی جنرل کے پیش نہ ہونے پر ناراضگی کا اظہار کیا جب کہ کیبنٹ ڈویژن کے جواب کو بھی ناکافی قرار دیا۔ عدالت نے کہا آئندہ سماعت پر بتایا جائے کہ سابق وزیر اعظم کے متنازع انٹرویو پر کیبنٹ ڈویژن نے آرٹیکل چھ کے تحت کیا کارروائی کی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ یہ معاملہ پیمرا سے متعلقہ ہے جس پر بنچ کے رکن جسٹس مسعود جہانگیر نے باور کرایا کہ پیمرا کا کام تقاریر نشر کرنا ہے آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی وفاقی حکومت کا کام ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے۔ عدالت نے صحافی سرل المیڈا کے پیش ہونے پر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری واپس لے لیے اور ان کا نام بھی ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا۔

نواز شریف کی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں اور رہنماؤں کی بڑی تعداد بھی عدالت کے اندر اور باہر موجود رہی۔ کارکنان نے نواز شریف کے حق میں اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی، جب کہ مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف کی گرفتاری کے خلاف بھی سخت احتجاج کیا گیا۔

لیگی کارکنوں کی دھکم پیل سے کمرہ عدالت کے دروازے کے شیشے ٹوٹ گئے جب کہ پولیس اور کارکنوں میں تلخ کلامی بھی ہوئی۔ رش کی وجہ سے نواز شریف کو بھی عدالت میں جانے میں مشکلات کا سامنا رہا۔ ووٹ کو عزت دو اور ظلم کے ضابطے ہم نہیں مانتے کے نعرے لگائے گئے۔

دونوں سابق وزرائے اعظم کے خلاف بغاوت کی کارروائی کی درخواست شہری آمنہ ملک نے دائر کی ہے جس کا موقف ہے کہ نواز شریف نے ممبئی حملوں کے متعلق متنازع انٹرویو دے کر ملک و قوم سے غداری کی، جس سے ملکی سالمیت کو نقصان پہنچا،

درخواست میں کہا گیا ہے کہ شاہد خاقان عباسی نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی نواز شریف کو بتا کر حلف کی پاسداری نہیں کی، لہذا عدالت نواز شریف، شاہد خاقان عباسی اور صحافی سرل المیڈا کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے اور اور آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کا حکم جاری کرے۔
پس منظر

رواں سال الیکشن سے قبل مئی میں ایک انگریزی اخبار کو انٹرویو میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد میاں نوازشریف نےکہا تھا کہ سرحد پار جا کر 150 لوگوں کو قتل کردینا قابل قبول نہیں، عسکری تنظیمیں اب تک متحرک ہیں جنھیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتا ہے۔

نواز شریف نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا تھا کہ مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں انھیں اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ سرحد پار جا کر 150 لوگوں کو قتل کر دیں۔ اس انٹرویو پر پاک فوج نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ممبئی حملوں سے متعلق بیان کو گمراہ کن قرار دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں