ضمنی الیکشن 2018ء: پولنگ کا وقت مکمل، ووٹوں کی گنتی شروع

لاہور: ضمنی انتخابات میں الیکشن کمیشن نے پولنگ کا وقت نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا،پاک فوج کی نگرانی میں پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو شام 5 بجے تک جاری رہی، سیکیورٹی اہلکاروں نے پولنگ سٹیشنز کے اندر اور باہر سیکیورٹی کے فرائض انجام دیے۔

الیکشن کمیشن نے چاروں صوبائی الیکشن کمشنرز کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹوں کی گنتی کے وقت کسی پولنگ ایجنٹ کو باہر نہ نکالا جائے، ہر امیدوار کا ایک مجاز پولنگ ایجنٹ گنتی کے وقت موجود ہو۔ پولنگ 5 بجے ختم کر دی جائے اور پولنگ سٹیشن کے دروازے بند کر دیے جائیں، تاہم پانچ بجے کے بعد صرف پولنگ سٹیشن کے احاطے میں موجود افراد کو ووٹ ڈالنے دیا جائے۔ الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق قانون میں پولنگ ایجنٹ کے سامنے گنتی لازم ہے۔

الیکشن کمیشن کے ترجمان الطاف خان کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ ووٹنگ کے عمل کے دوران معمولی نوعیت کی شکایات موصول ہوئی ہیں تاہم ابھی تک کوئی بڑی شکایات موصول نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ٹرن آؤٹ بارے ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔

35 حلقوں کے ضمنی الیکشن میں 641 امیدواروں میں مقابلہ ہوا۔ شہریوں کو ووٹ ڈالنے کیلئے شناختی کارڈ ہمراہ لانا لازمی اور موبائل فون کے ساتھ داخلہ ممنوع تھا۔

قومی اور پنجاب اسمبلی کے 11، 11 حلقوں، خیبر پختونخوا اسمبلی کے 9، سندھ اور بلوچستان اسمبلی کے 2 ،2 حلقوں میں ووٹنگ ہوئی۔ پہلی بار اوورسیز پاکستانیوں نے بھی پولنگ کے عمل میں حسہ لیتے ہوئے ووٹ کاسٹ کیا۔ سب سےزیادہ ووٹ سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات میں ڈالے گئے۔

لاہور میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی 4 نشستوں پر مقابلہ ہے۔ این اے 124 کی نشست مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز نے خالی کی تھی۔ یہاں مسلم لیگ ن کے شاہد خاقان عباسی اور پی ٹی آئی کے غلام محی الدین مد مقابل ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی خالی نشست این اے 131 میں ن لیگ کے خواجہ سعد رفیق تحریک انصاف کے ہمایوں اختر خان مقابلے پر ہیں۔

سندھ اسمبلی کے لیے کراچی کے 2 حلقوں میں انتخاب کا عمل ہوا۔ این اے 243 میں پی ٹی آئی کے عالمگیر خان، ایم کیوایم سے عامر چشتی، پی ایس 87 ملیر میں پیپلز پارٹی کے محمد ساجد اور پی ٹی آئی کے قادر بخش گبول میں مقابلہ ہے۔

بلوچستان کے 2 حلقوں پی بی 35 مستونگ اور پی بی 40 پر الیکشن کا معرکہ لڑا گیا۔ مستونگ میں میر سراج رئیسانی پر ہونے والے خود کش حملے کے بعد انتخاب ملتوی کر دیا گیا تھا۔ خضدار میں سردار اختر مینگل نے سیٹ چھوڑی تھی۔ پی بی 40 میں 8 امیدواروں نے الیکشن میں حصہ لیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں