ضمنی انتخابات، پولنگ کا وقت 5 بجے ختم ہو جائے گا

لاہور: ملک کے 35 حلقوں میں آج ضمنی الیکشن کا میدان سج گیا، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق بھی امیدوار ہیں، کئی حلقوں میں سخت مقابلے متوقع ہیں،پاک فوج کی نگرانی میں پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو شام 5 بجے تک جاری رہے گی، الیکشن کمیشن نے پولنگ کا وقت نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے. سکیورٹی اہلکار پولنگ سٹیشنز کے اندر اور باہر سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں.

الیکشن کمیشن نے پولنگ کا وقت نہ بڑھانے کا فیصلہ لیا ہے، ضمنی الیکشن 2018 کیلئے پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی، جو 5 بجے ختم ہو جائے گی۔ 35 حلقوں کے ضمنی الیکشن میں 641 امیدواروں میں مقابلہ ہے اور 92 لاکھ 83 ہزار 74 ووٹرز حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں، شہریوں کو ووٹ ڈالنے کیلئے شناختی کارڈ ہمراہ لانا لازمی ہے تاہم موبائل فون کے ساتھ داخلہ ممنوع ہے۔

قومی اور پنجاب اسمبلی کے 11،11 حلقوں، خیبرپختونخوا اسمبلی کے 9، سندھ اور بلوچستان اسمبلی کے 2،2 حلقوں میں ووٹنگ ہو رہی ہے۔ پہلی بار اوورسیز پاکستانی بھی ووٹ کاسٹ کریں گے۔ رواں ضمنی الیکشن سمندر پار پاکستانیوں کیلئے بڑا دن ہے جو ملکی تاریخ میں پہلی بار حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں، رجسٹرز ووٹرز کو خصوصی پاس ورڈ جاری کئے گئے ہیں۔2 گھنٹے میں 1400 سے زیادہ اوورسیز پاکستانیوں نے ووٹ ڈالا، سب سےزیادہ ووٹ سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات میں ڈالے گئے۔

لاہور میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی 4 نشستوں پر مقابلہ ہے۔ این اے 124 میں 5 لاکھ 35 ہزار 172 ووٹرز حق رائے دہی کا استعمال کریں گے، یہ نشست رہنماء مسلم لیگ ن حمزہ شہباز نے خالی کی تھی۔ یہاں مسلم لیگ ن کے شاہد خاقان عباسی اور پی ٹی آئی کے غلام محی الدین مدمقابل ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی خالی نشست این اے 131 میں ن لیگ کے خواجہ سعد رفیق تحریک انصاف کے ہمایوں اختر خان مقابلے پر ہیں۔ پی پی 164 میں شہباز شریف کی خالی نشست پر بھی پولنگ جاری ہے۔ لاہور کے 881 پولنگ سٹیشنز میں 150 انتہائی حساس قرار دیے گئے ہیں۔ ملتان کی تحصیل جلالپور پیر والا میں پی پی 222 میں 14 امیدوار میدان میں ہیں۔

سندھ اسمبلی کے لیے کراچی کے 2 حلقوں میں انتخاب جاری ہے۔ این اے 243 میں پی ٹی آئی کے عالمگیر خان، ایم کیوایم سے عامر چشتی، پی ایس 87 ملیر میں پیپلز پارٹی کے محمد ساجد اور پی ٹی آئی کے قادر بخش گبول میں مقابلہ ہے۔

بلوچستان کے 2 حلقوں پی بی 35 مستونگ اور پی بی 40 پر الیکشن کا معرکہ لڑا جا رہا ہے۔ مستونگ میں میر سراج رئیسانی پر ہونے والے خودکش حملے کے بعد انتخاب ملتوی کردیا گیا تھا۔ خضدار میں سردار اختر مینگل نے سیٹ چھوڑی تھی۔ پی بی 40 میں 8 امیدوار الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں