‘ممالک جہاں جانوروں پر بھی قانون لاگو ہوتا ہے’

لاہور: قانون جانورو ں پر بھی نافذ ہوتا ہے۔ کئی ممالک میں قانون شکن کو جانور ہونے کی رعایت نہیں ملتی، قانون شکن کو مجرم ہی سمجھا جاتا ہے۔

جانور اگر قانو ن کے تابع نہیں رہ سکتے تو جیل جائیں، اسی لئے جانوروں پر بھی ’’فرد جرم‘‘ عائد ہوتی رہی ہے، ان پر ’’مقدمات‘‘ بھی چلے اور وہ جیل بھی گئے۔ ہاتھی راما چندراںکو 30 لاکھ روپے جرمانہ 45 سالہ راما چندراں نامی ہاتھی بھارتی ریاست کیرالہ کا ’’رہائشی‘‘ ہے۔ وہ اپنے مالک کے ساتھ ایک بھجن میں شریک ہو گیا، راما چندراں کو ٹرک کی جانب لے جایا جا رہا تھا کہ اسے اچانک غصہ چڑھ گیا۔ پتہ نہیں اسے کیا ہوا، بدمست ہوکر اس نے جو شے راستے میں آئی ،اپنے بھاری بھرکم پیروں تلے کچل ڈالی۔ اس واقعے میں 65 سالہ مینی سمیت تین افراد ہلاک ہوئے۔ وہ فاتح عالم کے انداز میں اپنے پیروں تلے کچلی جانے والی اشیا کے ڈھیر پر کھڑا ہو کرچنگھاڑنے لگا۔ اس پر اور اس کے مالک پر مقدمہ چلا۔ اسے 30 لاکھ (بھارتی ) روپے جرمانے کی سزا ہوئی۔ اسے تین ماہ کے لئے گھر میں ’’نظر بند‘‘ کر دیا گیا۔ اس نے پہلے بھی ایک مندر کے باہر دو افراد کو کچل دیا تھا جس کے بعد اسے ہر قسم کی تقریبات میں شرکت سے روک دیا گیا تھا۔ یہ دوسرا واقعہ تھا۔ 19سالہ موکی جیل میں اپریل 2012ء کا واقعہ ہے۔ بریڈ برمن اپنے 19سالہ کیپو چن نسل کے بندرموکی کے ساتھ فلوریڈا میں رہائش پذیر تھا۔ موکی کی 20ویں سالگرہ قریب تھی، وہ اس کی دلچسپی کی اشیا کی خریداری کے لئے شاپ میں پہنچا،خریداری سے فارغ ہوا تو کار کی جانب روانہ ہوا۔ 32سالہ جسٹن ڈیبری کی نظر موکی پر پڑی، جسٹن کے دل میں اسے پیار کرنے کی امنگ جاگی۔’’کیا میں اسے تھپکی دے سکتا ہوں ‘‘جسٹن نے بریڈ برمن سے پوچھا۔کیوں نہیں ! اس نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔ جسٹن کی بات اسے بہت اچھی لگی۔ مارکیٹوں میں اکثر ہی لوگ موکی میں دلچسپی لیتے تھے۔ موکی کو بھی اچھا لگتا تھا، مگر اس روز ابھی جسٹن نے ہاتھ آگے بڑھایا ہی تھا کہ قریب اچانک گاڑی کا شور ہوا۔ موکی اچانک آواز پر گھبرا گیا، اسی گھبراہٹ میں موکی نے اپنے باریک دانت جسٹن کی ٹانگ میں پیوست کر دئیے۔ فلوریڈا فش اینڈ وائلڈ لائف کمیشن کے کیپٹن باب برائون نے بریڈ کے گھر کو ہی ’’سب جیل‘‘ قرار دے دیا اور اسے 30 دن کی سزا سنائی ۔ مافیا کے 13سو طوطے گرفتار ستمبر 2010ء میں سپین سے میکسیکو تک پولیس مافیا کی تلاش میں سرگرداں تھی۔ مافیا ہر چھاپہ ناکام بنا دیتا تھا۔پولیس کی ایک ایک حرکت پر ان کی نظر ہوتی۔ پہلے پہل تو پولیس کو اپنے ہی اہلکاروں پر شک گزرنے لگا۔ وہ سوچنے لگے کہ کہیں ہم میں ہی تو ان کا کوئی ایجنٹ موجود نہیں۔ ایک روز اچانک انہیں ایک طوطے کی غیر معمولی اڑان پر شک گزرا۔

جب طوطے کا پیچھا کیا گیا تو انہیں پتہ چلا کہ مافیا نے تربیت یافتہ طوطے پولیس کی صفوں میں چھوڑ رکھے تھے۔ جونہی پولیس کی کوئی گاڑی تھانے سے نکلتی تھی، طوطے ان سے پہلے اڈوں پر پہنچ جاتے اور کہتے۔ ’’بھاگو، بھاگو ،بلی آنے والی ہے!‘‘یہ سنتے ہی مافیا گینگ کے لوگ فرار ہو جاتے۔ سب سے پہلے لورنزو گرفتار ہوا،اس کے پکڑے جانے سے مافیاکے 13 سوتربیت یافتہ طوطوں کا راز کھلا، جن کی مدد سے انہوں نے پولیس پر نظر رکھی ہوئی تھی۔ طوطے کی گرفتاری سے پولیس دو ہزار ہتھیاروں اور منشیات کے ڈھیر تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں