آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سکینڈل: شہباز شریف کو احتساب عدالت پیش کر دیا گیا

لاہور: آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سکینڈل میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو احتساب عدالت پیش کر دیا گیا، عدالت کے اطراف میں ملحقہ سڑکوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا۔

احتساب عدالت میں آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل کی سماعت ہوئی۔ شہباز شریف روسٹرم پر آئے اور عدالت سے درخواست کہ مجھے اجازت دیں کچھ کہنا چاہتا ہوں، جس پر عدالت نے شہباز شریف سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ کو اجازت ہے بتائیں آپ۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا میں آپ کو کچھ حقائق بتانا چاہتا ہوں، مجھے جسمانی ریمانڈ میں 25 دن ہو چکے ہیں، نیب ابھی تک کچھ ثابت نہیں کرسکا، نیب نے آشیانہ ہاؤسنگ سکیم، صاف پانی، لیپ ٹاپ سکیم سے متعلق پوچھ گچھ کی، نیب افسران نے کہا کہ نماز پڑھ کر قتل جائز نہیں، میں نے صبر و تحمل سے نیب افسران کو برادشت کیا۔

شہباز شریف نے کہا میں کینسر کا مریض ہوں، میری سرجری امریکہ میں ہوئی، میں نے ایک ہفتہ پہلے کہا کہ بلڈ ٹیسٹ کروائیں جائیں، شوگر ٹیسٹ، بلڈ پریشر اور بلڈ ٹیسٹ نہیں ہوئے، نارمل حالات میں بھی سب کو میڈیکل چیک اپ کروانے کی اجازت ہوتی ہے۔

دوران سماعت شہباز شریف اور پراسیکیوٹر نیب میں تلخ کلامی ہوئی۔ نیب پراسیکیورٹر نے کہا آپ کیس پر بات کریں۔ جس پر شہباز شریف نے کہا عدالت سے بات کرہا ہوں، مجھے ابھی تک چیک اپ کروانے کی اجازت نہیں دی گئی، نیب کی جانب سے مسلسل کہا جاتا ہے کہ اوپر سے ابھی تک حکم نہیں آیا، یہ اوپر والے کون ہیں؟ میرے ساتھ بہت ظلم اور زیادتی ہو رہی ہے، یہ میرا گناہ ہے کہ میں نے پنجاب کی حالت بدل دی، فیملی سے ویکلی میٹنگ تک نہیں کروائی جا رہی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں