آسیہ بی بی کی بریت کیخلاف سپریم کورٹ میں نظر ثانی اپیل دائر

لاہور: آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں ایک اپیل دائر کر دی گئی ہے جس میں عدالتِ عالیہ سے اس پر نظر ثانی کی استدعا کی گئی ہے۔

آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں دائر کی گئی اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزمہ نے دورانِ تفتیش اپنے جرم کا اعتراف کیا، سپریم کورٹ بریت کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی کرے اور ملزمہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالے۔

ذرائع کے مطابق آسیہ بی بی کی رہائی پر گزشتہ دو روز سے پورے ملک میں دھرنا دیے بیٹھے مظاہرین کے حکومت سے معاملات طے پا گئے ہیں۔ مظاہرین نے حکومت سے مذاکرات کرنے اور دھرنا ختم کرنے کی حامی بھر لی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے آسیہ بی بی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے میڈیا کو ملک میں امن وامان کی صورتحال پر بریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے اس سلسلے میں اپوزیشن جماعتوں سے مذاکرات ہوئے ہیں، پیپلز پارٹی کی جانب سے نوید قمر اور مسلم لیگ ن کی جانب سے ایاز صادق کو فوکل پرسن نامزد کیا ہے حکومت کی کوشش ہے کہ اپوزیشن کو ساتھ ملا کر اس مسئلے کے حل کیلئے ایک مشترکہ حکمت عملی ساتھ لے کر چلیں۔

تاہم انہوں نے مظاہرین پر واضح کیا کہ لوگوں کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن جو لوگ تشدد میں شرکت کریں گے اور ریاست کو چیلنج کرنے کی کوشش کریں گے انھیں بتا دینا چاہتے ہیں کہ یہ بغاوت کے زمرے میں آتا ہے، وہ ایسا کریں گے تو انھیں اس کا حساب دینا پڑے گا۔

ذرائع کے مطابق وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی نے پہلی مرتبہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ آسیہ بی بی کے فیصلے کیخلاف احتجاج کرنیوالوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، قوم کو جلد خوشخبری ملے گی۔

قومی اسمبلی میں امن و امان کی صورتحال پر جاری بحث کے دوران شہریار آفریدی نے بتایا کہ تمام صوبوں کے اعلیٰ حکام کے ساتھ طویل مشاورت ہوئی ہے اور یہ فیصلہ ہوا ہے کہ احتـجاج کے خاتمے کے لیے طاقت کا استعمال نہ کیا جائے بلکہ ان سے بات کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں