16

آگ پر چل کر بے گناہی ثابت کرنے والی رسم چربیلی

بلوچستان میں ایک قدیم رواج ہے کہ جس معاملے میں دوران جرگہ مجرم ہونا مشکوک بن جائے تو اس کو پھر آگ پر سے گذر کر اپنی بے گناہی ثابت کرنی پڑتی تھی۔ اس عمل میں سے ہزاروں افراد کے بالکل محفوظ ہو کر نکلنے کے قصے سننے کو ملتے ہیں۔ جس میں کئی بے گناہ شخص اس دہکتی ہوئی آگ سے بالکل با آسانی سے محفوظ ہو کر گذر جاتے ہیں تو ایک بہت بڑا مسئلہ لمحوں میں بخیر و خوبی حل ہوجاتا ہے اور مخالفین بجائے جنگ و جدل پھیلانے کے آپس میں شیر و شکر ہو کر اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ ڈیرہ بگٹی ایک شخص موریا بھی اس عمل سے گزر چکے ہیں وہ اپنی داستان سناتے ہوئے کہتے ہیں شک کی بنیاد پہ آگ پہ گزارہ گیا اور میرے پائوں تک نہ جلے کیونکہ میں اس وقت چور نہ تھا۔ یہ رواج بلوچستان میں ایک قدیم رواجوں کے طور پر منایا جاتا ہے اس معاملے کے دوران مجرم ہونا مشکوک بن جائے تو اس کو پھر آگ پر سے گذر کر اپنی بے گناہی ثابت کرنی پڑتی ہیں۔ آگ پر چلنے کا عمل انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق سمجھا جاتا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ مقامی لوگوں کو چربیلی کے ذریعے سستا اور فوری انصاف مل جاتا ہے۔ عدالتوں کے چکر اور وکیلوں کی فیس سے انہیں نجات مل جاتی ہے۔ بلوچستان میں قبائلی انصاف کے مطابق انگاروں سے بھرے ایک گڑھے کو منصف بنایا جاتا ہے جس کو بلوچی زبان میں آس آف یعنی آگ اور پانی یا چربیلی کا نام دیا جاتا ہے۔ چربیلی کی رسم بگٹی قبائل میں زیادہ مقبول ہے۔ یہ کوئی زبردستی کرایا جانیوالا عمل نہیں بلکہ الزام سے بے گناہی ثابت کرنے اور سرخرو ہونے کیلئے شوق اور اطمینان سے کیا جاتا ہے۔ آگ میں اترنے سے پہلے پورے مجمعے کے لوگ بزرگ عالم رشتہ دار سب ملزم کو سمجھاتے ہیں کہ اگر کسی بھی طرح سے جرم میں حصہ دار ہو تو رک جاؤں بےگناہ جھوم کے انگاروں پہ چلتے ہیں۔

بلوچستان کے نواب ہر دور میں کسی بھی شخص کو چوری، کارو کاری یا قتل کے فیصلے کرنے کےلیے چربیلی کی جاتی ہے۔ جس کےتحت بارہ فٹ لمبا، اڑھائی فوٹ چوڑا اور دو فٹ گہرا گھڑا کھودا جاتا ہے۔ جس کو لکڑیوں سے بھر کر آگ لگا دی جاتی ہے۔ آگ کے شعلے ختم ہونے کے بعد جب انگارے تازہ ہوتے ہیں تو اس عمل کے دوران قرآن مجید کی تِلاوت صبح سے شام تک آگ پہ کی جاتی ہے اور اس آگ کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیا جاتا ہے اور حلف دینے کے بعد ملزم کو انگاروں پر ننگے پاؤں چلنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ انگاروں سے بھرے گڑھے کی دوسری طرف ان کے رشتہ دار تازہ ذبح کیے ہوئے بکرے کے خون سے بھرا برتن لیے کھڑے ہوتے ہیں جس میں ملزم کے پاؤں چند منٹ کے لیے رکھے جاتے ہیں۔ بعد میں جرگے کے امین کو ملزم کے پاؤں دیکھ کر اس کی بےگناہی یا گناہ گار ہونے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اگر پاؤں میں چھالے ہونگے تو وہ شخص گناہ گار اور سزا کا حقدار ہوگا۔ اس آگ سے کئی سالوں کے چلتے قبائلی جھگڑے ختم ہو جاتے ہیں جن کا حل نا ممکن ہوتا ہے اس کا حل منٹوں میں نکل آتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں