19

آسیہ بی بی کو جیل سے رہا کر دیا گیا، وکیل

سپریم کورٹ کی جانب سے توہین رسالتﷺ کے معاملے پر سزائے موت کی معطلی اور رہائی کے حکم کے بعد آسیہ بی بی کو جیل سے رہا کر دیا گیا۔

آسیہ بی بی کے وکیل نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کی سزائے موت کالعدم قرار دے دی تھی جس کے بعد آج انہیں ملتان جیل سے رہا کردیا گیا ۔

آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک نے برطانوی خبرارساں ادارے (اے ایف پی ) کو بتایا کہ مجھے پتاچلا ہے کہ وہ جہاز میں سوار ہیں لیکن یہ کسی کو معلوم نہیں کہ جہاز کس سرزمین پر اترے گا ۔

وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے آج اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں رہائی پانے والی آسیہ بی بی پاکستان میں موجود ہے، اس کو حکومت کی جانب سے مکمل سیکیورٹی فراہم کئی گئی ہے۔ جب تک عدالت حکم نہ دے، اس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ ( ای سی ایل) میں نہیں ڈالا جائے گا۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 31 اکتوبر 2018 کو آسیہ بی بی کی سزائے موت کالعدم قرار دے دی تھی، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ آسیہ بی بی کسی اور مقدمے میں گرفتار نہیں. تو رہا کردیا جائے۔

یاد رہے کہ آسیہ بی بی کی سزائے موت کا حکم لاہور ہائیکورٹ نے دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں