16

زہر پلا کر 16 افراد کو مارنے والی خاتون اور دوست کو 15 مرتبہ عمر قید

ڈیرہ غازی خان کی انسداد دہشت گردی عدالت نے زہریلی لسی سے متعلق ’مشہور زمانہ کیس‘ کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزمہ آسیہ اور اس کے آشنا کو 15 مرتبہ عمر قید کی سزائیں سنا دی ہیں۔

مظفر گڑھ کی رہائشی ملزمہ آسیہ نے گزشتہ برس اپنے آشنا شاہد کے ساتھ ملکر سسرالیوں کو لسی میں زہر ملاکر پلائی جس میں بچے سمیت 16 افراد جاں بحق جبکہ مجموعی طور پر لسی سے 27 افراد متاثر ہوئے تھے۔

جمعرات 8 نومبر کو انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاکر حسن نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے دونوں کو 30 لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنے کا حکم دیا جبکہ ایک ملزمہ زرینہ بی بی کو شک کا فائدہ دے کربری کردیا گیا ہے۔

گزشتہ برس 30 اکتوبر کو پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ میں ایک خاندان کے 16 افراد لسی پینے کے بعد جاں بحق ہوگئے تھے۔ پولیس نے واقعہ کے بعد شک کی بنیاد پر دلہن بن کر آنے والی خاتون آسیہ بی بی، اس کی رشتہ دار زرینہ بی بی اور ایک شخص محمد شاہد کو گرفتار کر لیا۔

پولیس نے آسیہ بی بی کو گرفتار کر کے پوچھ گچھ کی تو اس نے اپنے شوہر محمد امجد کو قتل کرنے کی غرض سے اس کے دودھ میں زہر ملانے کا اعتراف کیا۔ پولیس نے ملزمہ کی نشاندہی پر وہ پڑیا بھی برآمد کر لی تھی جس میں اس نے زہریلا مواد رکھا تھا۔

بعد ازاں گھر والوں نے اس دودھ کا دہی بنا لیا اور پھر لسی بنا کر پی لی۔ زہریلی لسی پینے سے پورے خاندان کے 27 افراد کی طبیعت خراب ہوئی جہاں سے ان کو مختلف اسپپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ دوران علاج 16 افراد چل بسے جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل تھے۔

تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ خاندان میں صرف آسیہ بی بی نے زہریلی لسی نہیں پی تھی۔ پولیس نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ آسیہ بی بی محمد امجد کے ساتھ اپنی شادی سے خوش نہیں تھی اور اس نے اپنے خاندان کو بھی اس ناپسندیدگی سے آگاہ کردیا تھا لیکن خاندان نے اس کی شادی مرضی کے خلاف کروا دی۔

پولیس کے مطابق آسیہ بی بی محمد شاہد سے شادی کرنا چاہتی تھی اور اس کے لیے ان دونوں نے محمد امجد کو زہر دے کر قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔

جس وقت واقعہ ہوا، آسیہ بی بی کی عمر 18 سے 20 سال کے درمیان تھی اور اس کی محمد امجد سے تازہ شادی ہوئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں