سینیرصحافی نصراللہ کی گمشدگی،اہلیہ سندھ ہائیکورٹ پہنچ گئیں

مقامی اردو اخبار “نئی بات” کے سینیر صحافی نصر اللہ کی گمشدگی پر اہلیہ نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔ صحافی کی اہلیہ نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سادہ لباس اہل کار شوہر کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔

کراچی میں مقامی اردو اخبار “نئی بات” کیلئے کام کرنے والے سینیر صحافی نصر اللہ کو ہفتہ کی صبح ان کے گھر سے اٹھایا گیا۔ نصر اللہ کی اہلیہ شوہر کی گمشدگی پر پٹیشن دائر کرنے سندھ ہائی کورٹ پہنچ گئیں۔

دائر درخواست میں اہلیہ کا کہنا ہے کہ شوہر کو سولجر بازار میں گھر سے حراست میں لیا گیا، سادہ لباس اہلکار شوہر کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے، جب کہ نصر اللہ کا لیپ ٹاپ بھی انہوں نے قبضے میں لے لیا۔

دائر کردہ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے شوہر سے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کر رہے، نصراللہ کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ بھی نہیں، اندیشہ ہے کہ کہیں انہیں جھوٹے مقدمات میں ملوث نہ کردیا جائے۔

درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ عثمان فاروق کا کہنا ہے کہ نصر اللہ پر کوئی الزام ہے تو قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، 72 گھنٹے گزر جانے کے باوجود کسی عدالت میں پیش نہ کرنا آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں سندھ حکومت، آئی جی سندھ، ڈی جی رینجرز، ایس ایس پی شرقی کو فریق بنایا گیا ہے، جب کہ ایس ایچ او سولجر بازار و دیگر بھی درخواست میں فریق ہیں۔

واقعہ کے خلاف صحافی تنظیموں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پریس کلب پر احتجاج بھی کیا گیا۔ صحافی تنظیموں کا کہنا تھا کہ حکام حقائق کو منظر عام پر لائیں اور معاملے کی تحقیقات کرے۔

واضح رہے کہ کچھ روز قبل کراچی پریس کلب میں بھی مبینہ طور پر نامعلوم مسلح افراد گھس آئے تھے، جس پر صحافی تنظیموں کی جانب سے شدید مذمت اور احتجاج کیا گیا تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں