آسیہ بی بی کا معاملہ،پاکستانی وزیرخارجہ سے کینیڈین ہم منصب کارابطہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ آسیہ بی بی پاکستانی شہری ہیں اور ہم ان کو حاصل حقوق کا احترام کرتے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے منگل کے روز کینیڈین ہم منصب نے رابطہ کیا۔

ٹیلی فون پر ہونے والے رابطے میں دونوں رہنماوں نے دو طرفہ ملکی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ بات چیت میں آسیہ بی بی کے معاملے پر پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ آسیہ بی بی پاکستانی شہری ہیں، ان کے حقوق کا احترام کرتے ہیں۔

اس موقع پر کینیڈین وزیر خارجہ نے سپریم کورٹ کی جانب سے آسیہ بی بی کے فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے دلیرانہ اور مثبت قدم قرار دیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا تھا کہ آسیہ بی بی کو ممکنہ سیاسی پناہ دینے سے متعلق پاکستانی حکومت کیساتھ بات چیت جاری ہے۔

کینیڈین وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ آسیہ بی بی کا معاملہ حساس پسِ منظر رکھتا ہے جس کا وہ احترام کرتے ہیں اور اسی لیے اس معاملے پر اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتے، ساتھ ہی ٹروڈو نے یہ بھی کہا کہ وہ لوگوں کو یہ یاد دلانا ضروری سمجھتے ہیں کہ کینیڈا دیگر ممالک کے لوگوں کو استقبال کرنے والا ملک ہے۔

لیکن گزشتہ ماہ پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے سزائے موت کے خلاف آسیہ بی بی کی اپیل منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا جس پر ملک بھر میں شدید احتجاج اور ہنگامے ہوئے تھے۔

آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے کے بعد ان کے شوہر عاشق مسیح نے برطانیہ، کینیڈا، اٹلی اور امریکہ کی حکومتوں سے ان کے خاندان کو پناہ دینے کی اپیل کی تھی۔

برطانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ بورس جانسن نے بھی اپنی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ آسیہ بی بی کو سیاسی پناہ فراہم کرے۔

آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف احتجاج کرنے والی مذہبی جماعتوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر آسیہ بی بی کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر نظرِ ثانی کی اپیل کا فیصلے ہونے تک ملک چھوڑنے کی اجازت دی گئی تو وہ احتجاج میں شدت لائیں گی۔

پاکستان کی حکومت نے بھی گزشتہ ہفتے مظاہرین کے ساتھ طے پانے والے ایک مبینہ معاہدے میں آسیہ بی بی کو بیرونِ ملک سفر کی اجازت نہ دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں