حکومت کے پاس اہلیت ہے نہ صلاحیت اور نہ منصوبہ: چیف جسٹس

اسلام آباد: بنی گالہ میں منصوبہ بندی کے بغیر تعمیرات سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ پرانی تعمیرات کو ریگولرائز کردینا بہتر ہے، مالکان کو فیس تو دینا پڑے گی۔ چیف جسٹس نے کہا حکومت کے پاس نہ اہلیت، نہ صلاحیت اور نہ ہی منصوبہ بندی، سی ڈی اے بھی عدالتی حکم کی آڑ میں لوٹ مار کر رہا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے بنی گالہ میں بغیر منصوبہ بندی تعمیرات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سی ڈی اے کی جانب سے رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ اسلام آباد میں ابھی بہت سا سرسبز علاقہ ہے جس کو بچایا جا سکتا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حکومت کے پاس نہ اہلیت ہے، نہ صلاحیت اور نہ منصوبہ بندی، آپ نے اس علاقے میں سڑکیں اور سیوریج نظام بنانا ہے، جس کیلئے آپکو زمین چاہیے، ممکن ہے زیر زمین بجلی کی لائنز بچھانا پڑیں، اسکے لئے بھی آپ کو زمین چاہے۔ نیا پاکستان بن رہا ہے، ممکن ہے آپ زیر زمین ٹرین بھی چلانا چاہیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ بنی گالہ میں سہولیات کیلئے زمین چاہیے، بہتر یہی ہے کہ پرانی تعمیرات کو ریگولرائز کر دیں، سی ڈی اے نے ابھی تک کوئی پلان جمع نہیں کرایا۔ انہوں نے کہا کہ بغیر منصوبہ بندی تعمیرات کو یا تو جرمانہ لے کر ریگولرائز کر دیں، اگر بنی گالہ کو منصوبہ بندی کے تحت ڈویلپ کرنا ہے تو تعمیرات خریدنا پڑیں گی، بغیرمنصوبہ بندی تعمیرات کرنے والے مالکان کو ازالہ ادا کرنے پڑے گا اور ریگولرائزیشن کے لئے مالکان کو پیسے بھی دینا پڑیں گے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اگر نیا شہر بنانا چاہتے ہیں تو سی ڈی اے زمین حاصل کرے، مفاد عامہ کی درخواستیں لوگوں کی سہولت کے لئے سنتے ہیں، سی ڈی اے آج کل عدالتی حکم کی آڑ میں لوٹ مار کر رہا ہے، اسے عدالتی احکامات سے طاقت ملی ہے، طاقت کے نشے میں سی ڈی اے جھوم رہا ہے، جس کے بارے میں حکم نہیں دیا وہاں بھی جا کر پیسے مانگے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے ریگولرائزیشن فیس 5 سے کم کر کے 2.5 فیصد کر دی، سی ڈی اے بہت امیر ہو گیا ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ نے سروے آف پاکستان کے 3.42 ملین روپے دینا ہے، عدالت نے حکم دیا کہ سروے جنرل آف پاکستان کو ایک مہینے میں ادائیگی کی جائے۔ مقدمے کی مزید سماعت 22 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں