خشوگی کا قاتل کون؟ سعودی عرب پر دباؤ بڑھنے لگا

ریاض: برطانوی وزیر خارجہ سعودی عرب کو جمال خشوگی قتل کیس کی تحقیقات میں تعاون پر اکسانے کے لیے ریاض پہنچ گئے۔ دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے محمد بن سلمان کو ٹیلیفونک گفتگو میں پیغام دیا کہ امریکا خشوگی کے قتل میں ملوث افراد کو نہیں چھوڑے گا۔

سوموار کے روز برطانوی وزیر خارجہ نے شاہ سلمان سے ملاقات کی جس میں سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر اور برطانیہ کے سعودی عرب اور یمن کے سفیر بھی موجود تھے۔

ملاقات سے قبل جیریمی ہنٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی برادری خشوگی کے ہولناک قتل پر متفق ہے اور یہ ناقابل قبول ہے کہ خشوگی قتل کے درپردہ عوامل تا حال سامنے نہیں آ سکے، سعودی حکام کو چاہیے کہ ترکی کے ساتھ تحقیقات میں تعاون کریں۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کو پیغام دیا ہے کہ امریکا خشوگی کے قتل میں ملوث افراد کو معاف نہیں کرے گا اور سعودی عرب کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔

پومپیو کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صحافی کا قتل عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

دوسری طرف کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹس ٹروڈو نے بتایا کہ ان کو ترکی جانب سے صحافی کے قتل کی آڈیو ریکارڈنگ موصول ہو چکی ہے اور انہوں نے تحقیقات کے حوالے ترکی کے کردار کو سراہا اور بتایا کہ کینیڈین انٹیلی جنس ایجنسی ترکی کے ساتھ اس کیس پر کام بھی کر رہی ہے۔

فرانس کے وزیر خارجہ جین یویس لیڈریان نے ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ فرانس کو اب تک جمال خشوگی قتل کی آڈیو ٹیپ موصول نہیں ہوئی حالانکہ ترک صدر طیب اردگان کہہ چکے ہیں کہ وہ فرانس کو آڈیو ارسال کر چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں