سمینٹ فیکٹریاں سارے چکوال کا چونا کھاگئیں،چیف جسٹس پاکستان

چکوال میں سیمنٹ فیکٹریوں کی جانب سے زیرزمین پانی کے استعمال کےمعاملےسپریم کورٹ نےمعائنے کیلئے 2رکنی کمیشن قائم کردیا۔ کمیشن سے عدم تعاون پر مقدمات درج ہوں گے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سمینٹ فیکٹریاں سارے چکوال کا چونا کھا گئی ہیں،شرم آرہی ہے کہ بڑی بڑی کمپنیاں کیا کر رہی ہیں؟ عدالت کو سختی پر مجبور نہ کیا جائے۔

چکوال میں سیمنٹ فیکٹریوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ ڈپٹی کمشنر چکوال نے جائزہ رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی۔ انھوں نے بتایا کہ نجی فیکٹری کے 6 ٹیوب ویل بند کروا دیئے،صرف رہائشی علاقوں کے 2 ٹیوب ویل چل رہے ہیں۔عدالت نے رپورٹ مسترد کرتے ہوئے ڈی سی کی سخت سرزنش کی اورکہا کہ آپ کومعلوم ہی نہیں کہ رپورٹ میں کیا لکھا ہے،کم از کم اپنی رپورٹ پڑھ کر آتے۔

چیف جسٹس نے سوالات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے پوچھا کہ نجی سیمنٹ فیکٹری نے 4 ماہ کا پانی کیسے جمع کیا؟ جو تالاب بھرے گئے ہیں، اُن کا پانی کہاں سے آیا؟ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ زیر زمین پانی کا ٹیسٹ کروائیں گے۔

چیف جسٹس نے ڈی جی سیمنٹ کے وکیل پر بھی برہمی کااظہار کیا اورخبردار کیا کہ عدالت کو سختی پرمجبور نہ کریں،شرم آرہی ہےکہ بڑی بڑی کمپنیاں کیا کررہی ہیں،فیکٹریاں پانی کا خود بندوبست کریں،پانی چوری پر بہت حساس ہوں،عدالت جسے چاہے طلب کرسکتی ہے۔

عدالت نے فیکٹریوں کے معائنے کیلئے ایڈیشنل رجسٹرار اور ہیومن رائٹس پر مشتمل 2 رکنی کمیشن قائم کردیا۔کمیشن جمعرات کو فیکٹریوں کا جائزہ لےگا۔عدالتی نمائندے ٹیوب ویلز کے 6 ماہ کے بل بھی چیک کریں گے۔عدالت نے قرار دیا ہےکہ کہ کمیشن سے عدم تعاون پر مقدمات درج ہونگے۔اگلی سماعت جمعہ کو لاہور رجسٹری میں ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں