العزیزیہ ریفرنس: جے آئی ٹی کی تحقیقات تعصب پر مبنی تھیں، نواز

اسلام آباد: العزیزیہ سٹیل مل ریفرنس میں بیان ریکارڈ کروانے کے دوران نوازشریف جذباتی ہو گئے. انھوں نے کہا کہ ان کے بچے بیرون ملک کاروبار نہ کرتے تو کیا بھیک مانگتے. جے آئی تٹی کی تحقیقات تعصب پر مبنی تھیں. اکاونٹس میں‌بیرون ملک سے آئی رقوم درست ظاہر کیں. سابق وزیراعظم عدالتی سوالنامے کے بقیہ 31 سوالات کے جوابات قلمبند کروا رہے تھے.‌

سابق وزیراعظم نوازشریف کیخلاف العزیزیہ اورفلیگ شپ ریفرنسز میں آج عدالت پیش ہوئے۔ احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے کیس کی سماعت کی۔ سابق وزیراعظم نوازشریف نے آج بھی العزیزیہ سٹیل مل ریفرنس میں بیان قلمبند کروائے۔ انھوں نے کہا کہ اکاؤنٹ میں بیرون ملک سے آنے والی رقوم درست طور پر ظاہر کیں، جوایف بی آر ریکارڈ میں ظاہر ہیں. جے آئی ٹی کی تحقیقات کے دوران ریکارڈ شدہ بیانات قابل قبول شہادت نہیں۔ نوازشریف نے کہا کہ سپریم کورٹ میں میری طرف سے متفرق درخواست جمع کرائی گئی، جے آئی ٹی کے اکٹھے کئے گئے نام نہاد شواہد اور رپورٹ مسترد کرنے کی بھی استدعا کی۔ انھوں نے کہا کہ درخواست میں بتایا تھا کہ جے آئی ٹی محض تفتیشی ایجنسی سے زیادہ کچھ نہیں، یہ بیان عدالت میں بطور شواہد پیش نہیں ہوسکتا۔ نوازشریف نے موقف اختیار کیا کہ جے آئی ٹی کی تحقیقات تعصب پر مبنی اور ثبوت کے بغیر تھیں، جے آئی ٹی کو صرف انکم ٹیکس ریٹرن،ویلیتھ اسٹیٹمنٹ اور ویلتھ ریٹرن دیں۔

سماعت کے دوران نوازشریف نے کچھ دیر کے لیے سوالنامہ سے ہٹ کر بھی بیان ریکارڈ کرایا۔ انھوں نے کہا کہ عدالت کے پوچھے گئے سوالات ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں، ساری دنیا کے بچے باہر پڑھتے، کماتے اور پیسے بھی بھجواتے ہیں، میرے بچوں نے ایسا کیا مختلف کام کیا ہے؟ نواز شریف بیان دیتے ہوئے جذباتی ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے بیٹے بیرون ملک کاروبار نہ کرتے تو کیا بھیک مانگتے۔عدالت میں بیان کرنا مشکل لگ رہا ہے کہ بچے باہر کام کر رہے تھے، بچوں کے کاروبار کے لیے سرکاری رقم کی خرد برد، کرپشن، کک بیک کا کوئی ثبوت نہیں۔ نوازشریف نے کہا خود سمجھنے سے قاصر ہوں کہ میرے خلاف کیا کیا گیا؟ وزیراعظم ہونے کی وجہ سے کبھی اپنے کام سے فرصت ہی نہیں ملی، میرے والد 1937ء سے کاروبار کررہے تھے۔

سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے اعتراض اٹھایا کہ نوازشریف کے بیٹوں کے کاروبار کا مسئلہ نہیں ، کاروبار کیسے کیا اس پر سوال ہے۔اس پر نوازشریف نے کہا کہ خوشی سے بیرون ملک نہیں گئے تھے، ہمیں دھکے نہ دیئے جاتے تو میرے بچے یہیں کاروبار کر رہے ہوتے۔

گذشتہ سماعت پرنوازشریف نے اپنے بیان میں قطری شہزادےکےخطوط سے لاتعلقی ظاہر کی تھی فلیگ شپ ریفرنس میں نیب کے تفتیشی افسرمحمد کامران کوبھی آج طلب کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں