9

آٹھ نوجوانوں کی شہادت،مقبوضہ وادی میں مکمل ہڑتال

مقبوضہ وادی کشمیر میں 8 نوجوانوں کی ماورائے عدالت شہادت پر وادی میں آج مکمل ہڑتال ہے، جب کہ بھارتی قابض حکومت کی جانب سے متعدد علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بند کردی گئی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اتوار کے روز قابض بھارتی فورسز کی فائرنگ سے ڈیڑھ سال کی بچی سمیت 50 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے۔

بھارتی فورسز کی جانب سے شوپیاں اور کلگام ڈسٹرکٹ میں نہتے کشمیریوں کو پیلٹ گن سے نشانہ بنایا گیا، جس سے ایک طالب علم بھی شہید ہوا۔

آٹھ نوجوانوں کی ماروائے عدالت قتل پر سلگتی وادی میں حریت قیادت کی کال پر مکمل ہڑتال ہے، ہڑتال کی کال سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی جانب سے مشترکا طور پر دی گئی ہے، جب کہ ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن سمیت متعدد تنظیموں نے بھی ہڑتال کی کال پر لبیک کہا ہے۔


احتجاج سے خوف زدہ بھارتی فوج کی جانب سے اہم عمارتوں کو جانے والے راستوں اور سڑکوں کو خاردار تاریں لگا کر بند کردیا گیا ہے، جب کہ وادی میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس مکمل طور پر بند ہے۔

ہڑتال اور احتجاج کی کال شوپیاں کے علاقے میں قابض فورسز کے ہاتھوں گھر گھر تلاشی کے نام پر تین روز میں 18 کشمیری نوجوانوں کی شہادت پر دی گئی ہے۔ شہید نوجوانوں کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

بھارتی فورسز نے سرچ آپریشن کے دوران متعدد گھروں کو بھی تباہ کیا۔ اس دوران ملبے تلے دب کر مزید دو نوجوان شہید ہوئے، جن کی لاشیں نکال لی گئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں