26

کوہستان میں 5 لڑکیوں کو 6 سال قبل قتل کرنےوالے 4مبینہ ملزمان گرفتار

چھ سال قبل سامنے آنے والے کوہستان ویڈیواسکینڈل کے معاملے میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے۔ پانچ لڑکیوں کو مبینہ طور پرقتل کرنے والے چار ملزمان کو پولیس نے سات سال بعد گرفتار کرلیا ۔

کوہستان کے علاقے پلاس میں 2012 میں شادی کی ایک تقریب میں لڑکے کے رقص پر لڑکیوں کو تالیاں بجاتے دکھایا گیاتھا۔ ان لڑکیوں کو بعد جرگے کے حکم پر قتل کردیا گیا تھا۔ یہ اطلاع منظر عام پر آنے کےبعد کھلبی مچ گئی اور کئی ماہ تک اس کیس کی تحقیقات ہوتی رہیں۔ سپریم کورٹ نے جون میں اس واقعے کی ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا اور یکم اگست کومشتبہ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی۔ کولائی پلاس ضلع کے پولیس افسر افتخار خان نے بتایا کہ پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 364 کے تحت ایف آئی ار درج کی گئی اوراگرلڑکیوں کو برآمد کرنے میں پولیس ناکام رہی تو ایف آئی آر میں سیکشن 302 بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ پولیس نے اس کیس میں ملوث مبینہ 4 ملزمان کو گرفتار کرکے آٹھ روز ریمانڈ بھی حاصل کرلیا ہے۔

جن ملزمان کو گرفتار کیا گیا ان میں مبینہ طور پر قتل کی گئی لڑکیوں کے 2 والد اور 2 بھائی شامل ہیں۔

ملزمان کی گرفتاری کاحکم سپریم کورٹ نےدیاتھا اور ملزمان کو مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ سپریم کورٹ میں افضل کوہستانی نے درخواست دائر کی تھی۔ افضل کے تین بھائیوں کو بھی اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کےبعد جرگے کے حکم پر قتل کردیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں