قید یا بریت؟نوازشریف کیخلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا

سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف دونیب ریفرنسزمیں فیصلے کا وقت آگیا۔ احتساب عدالت آج العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کا فیصلہ سنائے گی۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک آج العزیزیہ اسٹیل اورفلیگ شپ ریفرنسز کا محفوظ فیصلہ سنائیں گےجو 19 دسمبر کوفریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ کیا گیا تھا۔

نواز شریف کل سے اسلام آباد میں ہی موجود ہیں جہاں انہوں نے چھوٹے بھائی سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے گزشتہ روز ملاقات میںاس حوالے سے مشاورت بھی کی۔

العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس میں آمدن سے زائد اثاثوں اور بیٹوں کے نام بے نامی جائیداد بنانے کا الزام ثابت ہوا تو نوازشریف کو زیادہ سے زیادہ 14سال تک قیدکی سزا، جرمانہ اور جائیداد ظبط کی جا سکتی ہے۔ ایسی صورت میں قائد مسلم لیگ ایک بار پھر اڈیالہ جیل پہنچ جائیں گے۔

اگراحتساب عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ نیب اپنے شواہد سے جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا توقائد ن لیگ بری ہوجائیں گے۔

فیصلے کے لئے سکیورٹی کے کڑےانتظامات مکمل کرلئے گئے ۔ جوڈیشل کمپلیکس کے چاروں جانب پولیس کی اضافی نفری تعینات ہے جبکہ اطراف میں سڑکیں بند کرکے عام افراد کا داخلہ روک دیا گیا ہے۔

سیکیورٹی اقدامات کے تحت صرف وہی افراد آگے آئیں گے جن کے پاس سیکیورٹی پاس موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ن لیگ کے ارکان پارلینٹ کی ممکنہ آمد کے پیش نظر فیصلہ کیا گیا ہے کہ وہ آئے تو انہیں پچھلے ناکے پر ہی روک دیا جائے گا۔ ججز کی گاڑیاں بھی فرنٹ گیٹ سے نہییں آئیں گی

مسلم لیگ کے مرکزی رہنما فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر نواز شریف کے ساتھ موجود ہوں گے۔ عدالت کے اندر صرف انہی رہنماؤں کو جانے دیا جائے گا جن کی لسٹ دو دن پہلے ہی سیکیورٹی کو فراہم کی گئی تھی۔ ان میں ہر پیشی پر قائد ن لیگ کے ساتھ آنے والے مریم اورنگزیب ، آصف کرمانی ، پرویز رشید اور دیگرشامل ہیں۔

28 جولائی 20 کو سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس کا فیصلہ سنایا گیا جس میں عدالت نے اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کو نااہل قرار دیتے ہوئے نیب کو شریف خاندان کی جائیداد سے متعلق تحقیقات کا حکم دیا گیا۔

نیب نے 8 ستمبر2017 کو نواز شریف اور ان کے بچوں مریم نواز، حسین نواز،حسین نواز اور اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف ایون فیلڈ ، العزیزیہ اسٹیل ملز اور ہل میٹلزکمپنی، 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنسزتیار کیے۔

نواز شریف کے خلاف 19 اکتوبر2017 کو العزیزیہ اسٹیل ملزریفرنس اور 20 اکتوبر2017 کوفلیگ شپ ریفرنس میں فرد جرم عائد کی گئی جبکہ عدم پیشی پر عدالت نے حسین اورحسین نواز کو مفرور قرار دیتے ہوئے کیس علیحدہ کررکھا ہے۔

جمعہ 6 جولائی 2018 کو احتساب عدالت ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سنا چکی ہے جس میں نواز شریف کو 10 سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی جسے بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کر دیا تھا۔

نیب کا موقف ہے کہ نواز شریف نے اہنے وزرات اعلیٰ کے دور اور اسوقت جب وہ وزیراعظم تھے اپنے بچوں کے نام پر جائیدادیں بنائیں جبکہ وہ ان کے زیر کفالت تھے۔

احتساب عدالت میں شریف خاندان کا کہنا ہے کہ العزیزیہ اسٹیل ملزقطری سرمایہ کاری سے خریدنا ممکن ہوئی جبکہ بچوں کو کاروبار کے رقم بھی انہوں نے فراہم کی۔ اسی سے فلیگ شپ کمپنی بنی۔ یہ جائیدادیں نوازشریف کی نہیں ان کے بچوں کے نام پر ہیں اور سابق وزیراعظم کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں