حکومت گھر جائے گی: آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان متفق

پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری سے جے یو آئی (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے ملاقات کی، جس میں حکومت مخالف تحریک چلانے پر مشاورت کی گئی، فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع اور نیشنل ایکشن پلان پرعمل درآمد پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سابق صدر آصف زرداری نے کہا کپتان کو گھر جانا پڑے گا، ہم نے قیادت نہ کی تو کوئی اور فورس آئے گی۔

ذرائع کے مطابق زرداری ہاؤس اسلام آباد میں ہونیوالی ملاقات کے دوران فضل الرحمن نے سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور اپنی خواہش کا بھی اظہار کیا، مہنگائی پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی پر بات چیت کی گئی، فضل الرحمن نے نیب کی کارروائیوں پر آصف زرداری کے موقف کی تائید کی اور آنیوالے دنوں میں احتساب بیورو کے ممکنہ اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اپوزیشن کا متحد ہونا ضروری ہے، فضل الرحمن نے آصف زرداری کو نواز شریف سے ملاقات پر راضی کرلیا، سابق صدر نے بھی نواز شریف سے ملاقات کی حامی بھرلی، وہ جلد جاتی امرا میں ملاقات کریں گے، آنیوالے دنوں میں بلاول بھٹو اور مریم نواز کی ملاقات بھی متوقع ہے۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آ صف زرداری نے کہا ہمیشہ کی طرح مولانا کی ہم پر نوازش رہتی ہے، یہ معلوم نہیں کہ وہ میرے بزرگ ہیں یا میں بزرگ ہوں، سیاست میں دونوں ایک ہی نظریے اور سوچ پر ہیں، حکومت کی وجہ سے پاکستان بہت پیچھے جا رہا ہے، یہ ہم پر لازم ہے کہ حکومت کیخلاف آواز بلند کریں، حکمرانوں کو اس وقت چلتا نہ کیا تو نقصانات کی تلافی نہیں کر سکیں گے اور آنیوالی نسلیں معاف نہیں کرینگی، یہ وقت بتائے گا کہ ان ہاؤس تبدیلی یا وسط مدتی انتخابات ہونگے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی عیادت کے سوال پر سابق صدر نے کہا بلاول بھٹو نواز شریف کی عیادت کر چکے ہیں، حکومت کیخلاف عملی طور پر تحریک کے آغاز کے وقت کے حوالے سے کہا یہ وقت اور موسم پر منحصر ہے، محرم اور رمضان کے بعد ہی کچھ ہو سکے گا۔ اس موقع پر فضل الرحمن نے کہا کوئی سرپرائز دینے نہیں آئے، ملاقاتیں معمول کا حصہ ہیں، یہ ملاقات بھی کھانے کی دعوت تھی، کوئی ایجنڈا نہیں تھا، نواز شریف سے بھی تفصیلی باتیں ہوئی تھیں، سیاسی لوگ جب اکٹھے بیٹھتے ہیں تو مجموعی صورتحال پر بات ہوتی ہے، آئندہ بھی ملاقاتیں ہوں گی اور سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھایا جائے گا، سیاسی صورتحال پر مکمل یکجہتی اور ہم آہنگی ہے، جعلی حکمرانوں سے قوم کو نجات دلانے کیلئے یکسو ہیں۔

ایک صحافی نے سوال کیا کہ عمران خان کہتے ہیں مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے نریندر مودی کا جیتنا ضروری ہے، جس پرفضل الرحمن نے کہا مودی کا جو یار ہے، غدار ہے غدار ہے، موجودہ وزیر اعظم نصب شدہ ہیں، مہنگائی عروج پر ہے، معیشت ہچکولے کھا رہی ہے۔
 

اپنا تبصرہ بھیجیں