کوئٹہ پھر لہو لہو، ہزار گنجی دھماکے میں 20 افراد شہید، 48 زخمی

کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں واقع فروٹ مارکیٹ میں دھماکے کے نتیجے میں 2 بچوں اور ایک ایف سی اہلکار سمیت 20 افراد جاں بحق اور 48 شدید زخمی ہو گئے. ہزارہ برادری نے 8 افراد شہید ہونے پر دھرنا دیدیا. وزیراعظم نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے زخمیوں‌کو علاج کی بہترین سہولیات مہیا کرنے کی ہدایت کی ہے.

کوئٹہ میں دہشت گردوں نے پھر بزدلانہ کارروائی کی، ہزار گنجی کے قریب سبزی منڈی میں ہونے والے دھماکے میں 20 افراد جاں بحق اور 48 زخمی ہوگئے۔ بتایا گیا ہے کہ دھماکہ سبزی منڈی میں ایک گاڑی کے قریب ہوا جس نے ہر طرف تباہی مچا دی۔ دھماکے سے سبزیاں اور فروٹ دور دور تک بکھر گئے اور قریبی دکانوں کو شدید نقصان پہنچا۔

دھماکے کے بعد بم ڈسپوزل سکواڈ اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، زخمیوں اور لاشوں کو ایمولینس کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا۔ کئی زخمیوں کی حالت کی تشویشناک بتائی گئی ہے جس سے ہلاکتیں بڑھنے کا خدشہ ہے۔

دھماکے کے بعد ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے لوگوں سے خون کے عطیات کی اپیل بھی کی گئی۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر دھماکے کی جگہ سے شواہد اکٹھے کئے۔

 ڈی آئی جی کوئٹہ کے مطابق دھماکے میں 2 بچوں اور ایک ایف سی اہلکار سمیت 20 افراد شہید اور 4 ایف سی اہلکاروں سمیت 48 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جاں بحق ہونے والوں میں 8 افراد کا تعلق ہزارہ برادری سے ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے کوئٹہ دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت اور گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے صوبائی حکومت کو ہسپتال میں زیر علاج زخمیوں کو بہترین سہولیات مہیا کرنے کے احکامات بھی جاری کئے ہیں۔ وزیراعظم نے واقعے کی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔

کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں آج صبح دھماکے سے جاں بحق 8 افراد کی نماز جنازہ اور تدفین ہزارہ ٹاؤن میں ادا کر دی گئی ہے۔ نماز جنازہ میں صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو سمیت دیگر وزرا بھی شریک ہوئے۔ادھر کوئٹہ کے مغربی بائی پاس پر ہزارہ برادری کا دھرنا جاری ہے۔ مظاہرین کا موقف ہے کہ ہزارہ کمیونٹی پر پے در پے حملے ہو رہے ہیں لیکن انہیں موثر سیکیورٹی فراہم نہیں کی جاتی۔ صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو بات چیت کے لیے دھرنے میں پہنچے لیکن مذاکرات ایک بارپھر ناکام ہوگئے۔ بارش اور ٹھنڈ کے باوجود خواتین سمیت درجنوں افراد مغربی بائی پاس پر دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ہزارہ کمیونٹی کو بار بار دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ حکومت اور سیکیورٹی فورسز ہزارہ کمیونٹی کو موثر سیکیورٹی کی فراہمی کے لیے اقدامات کرے۔ ہزار گنجی دھماکے کا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانے میں درج کر لیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ ایس ایچ او شالکوٹ کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا۔ مقدمے میں قتل، اقدام قتل، انسداد دہشت گردی اور ایکسپلوزو ایکٹ کی دفعات شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں