پولیو قطروں سے بچوں کی طبیعت خراب، مشتعل افراد کا ہسپتال پر دھاوا

پشاور کے نواحی علاقے بڈھ بیر کے نجی سکول میں مبینہ طور پر پولیو کے قطرے پینے سے کئی بچوں کی حالت غیر ہو گئی، بچوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا، مکینوں نے بچوں کی حالت خراب ہونے پر ڈی ایچ کیو پر دھاوا بول دیا، دفاتر میں توڑ پھوڑ کی اور آگ لگا دی۔

 پشاور کے نواحی علاقے بڈھ بیر ماشوخیل میں دارالقلم نامی سکول میں مبینہ طور پر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر حالت غیر ہوگئی، بچوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق قطرے پینے کے بعد بچوں نے سر چکرانے کی شکایت کی تھی، پولیو کے قطرے پینے سے 20 سے 25 کے قریب بچوں کی حالت خراب ہوئی۔

واقعہ کے خلاف ماشو خیل اور ملحقہ علاقوں کے سینکڑوں مکین سڑکوں پر نکل آئے اور ڈی ایچ کیو ماشوخیل پر دھاوا بولتے ہوئے اندر گھس گئے، مظاہرین نے دفاتر میں توڑ پھوڑ کی اور ہسپتال کے دروازے اور گیٹ توڑ دیئے۔

ہسپتال انتظامیہ کے مطابق بچوں کی حالت خطرے سے باہر ہے، معاملہ پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت فوراً معاملے کی انکوائری کر کے رپورٹ پیش کرے، بچوں کی جلد صحتیابی میں کوئی کوتاہی نہ برتی جائے۔

پولیو ایمرجنسی آپریشن سنٹر کے کوارڈینیٹر کامران آفریدی کے مطابق پولیو ویکسین محفوظ ترین ڈرگ ہے، اس سے ری ایکشن نہیں ہوتا، ہمارے ایکسپرٹس نے ویکسین کو چیک کیا ہے، ویکسین زائد المیعاد نہیں ہے اور بالکل ٹھیک ہے۔ کامران آفریدی کے مطابق پورے ملک میں آج بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جا رہے ہیں، مذکورہ سکول کی انتظامیہ پہلے سے بچوں کو پولیو قطرے پلانے سے انکاری ہیں، سکول پرنسپل نے قطرے پلانے کے ایشو پر ہم سے جھگڑا بھی کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں