گاڑیوں، موٹر سائیکلوں کی نئی نمبر پلیٹیں بند

پنجاب میں نمبر پلیٹوں اور سمارٹ کارڈ کا بحران شدید ہو گیا، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے پراجیکٹ کا چار ماہ قبل افتتاح کیا تھا۔ محکمہ ایکسائز نے نمبر پلیٹوں کا ٹھیکہ ان بکس نامی کمپنی کو دیا تھا۔ محکمانہ غفلت کے باعث کوئی حکمت عملی نہ بنائی جاسکی جس کے باعث ایکسائز ڈی جی آفس میں نمبر پلیٹیں تیار ہونا بند ہو گئیں۔

رپورٹ کے مطابق نمبر پلیٹوں کی عدم فراہمی سے شہریوں کو خواری کا سامنا ہے اور ایکسائز دفاتر میں شہریوں اور ایکسائز عملے کی تکرار معمول بن گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق لاہور میں 80ہزار سے زائد سمارٹ کارڈ شہریوں کو جاری نہیں کیے گئے۔ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی نمبر پلیٹیں پنجاب بھر میں لاکھوں کی تعداد میں شہریوں کو نہ دی گئیں۔

لاہور میں موٹر سائیکلز کی 30ہزار نمبر پلیٹوں سے شہری محروم ہیں۔ محکمہ ایکسائز کی جانب سے شہریوں سے پنجاب بھر میں سمارٹ کارڈ اور نمبر پلیٹوں کی مد میں کروڑوں روپے وصول کیے گئے۔ صوبائی وزیر ایکسائز پنجاب حافظ ممتاز احمد نے افسروں کو نمبر پلیٹوں اور سمارٹ کارڈ کی عدم فراہمی پر شوکاز نوٹس بھی جاری کیے ہیں۔

ڈائریکٹر ایکسائز ریجن سی عمران اسلم کا کہنا تھا کہ نمبر پلیٹیں اور سمارٹ کارڈ ڈی جی آفس سے جاری ہونا تھے، تاخیر کے ذمہ دار فیلڈ افسر نہیں ہیں، ذرائع کے مطابق اسی صورت حال پر نئے تعینات سیکرٹری ایکسائز پنجاب نبیل اعوان نے کل ہنگامی اجلاس بھی طلب کرلیا ہے۔

دوسری جانب محکمہ اینٹی کرپشن نے نمبر پلیٹوں کے ٹھیکوں میں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کیس کی تحقیقات میں تیزی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ اینٹی کرپشن نے نمبر پلیٹوں سے متعلق انکوائری اسسٹنٹ ڈائریکٹر میاں خالد سے واپس لیکر ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن شاہ رخ نیازی کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ نمبر پلیٹوں میں گھپلوں پر اعلٰی افسروں کیخلاف گھیرا تنگ کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں