عالمی عدالت انصاف آج کلبھوشن یادیو کیس کا فیصلہ سنائے گی

پاکستانی وفد اٹارنی جنرل کی قیادت میں ہیگ پہنچ گیا، کلبھوشن یادیو کیس کا فیصلہ پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے سنایا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق عالمی عدالت انصاف بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کیس کا فیصلہ آج پاکستانی وقت کے مطابق شام سات بجے سنائے گی۔ پاکستان کا وفد اٹارنی جنرل کی قیادت میں ہیگ پہنچ گیا ہے جس میں دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل بھی شامل ہیں۔

آخری سماعت میں دونوں پاک بھارت وفود نے شرکت کی تھی۔ بھارتی وفد کی سربراہی جوائنٹ سیکرٹری دیپک متل نے کی جبکہ پاکستانی وفد کی سربراہی اٹارنی جنرل انور منصورخان نے کی تھی۔

سماعت کے دوران بھارت کی طرف سے ہریش سالوے نے دلائل پیش کیے جبکہ پاکستان کی طرف سے خاور قریشی نے بھرپور کیس لڑا۔

گزشتہ دنوں دنیا نیوز سے گفتگو میں ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا تھا کہ عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کیس بہت اچھا لڑا، نتیجہ بھی اچھا آئے گا، عالمی عدالت کا فیصلہ تسلیم کرینگے۔

ان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو کے بارے میں بھارت کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا، فیصلے کے بعد عملدرآمد کے طریقہ کار پر وکلا سے مشاورت کریں گے۔

یاد رہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ 2018ء کو پاکستان ایران سرحدی علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا، یہ بھارتی جاسوس بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر اور ”را“ کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا تھا۔

بعد ازاں حکومت پاکستان نے بھارتی سفیر کو طلب کرکے انڈین جاسوس کے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخلے اور کراچی اور بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے پر باضابطہ احتجاج کیا۔ اس کے بعد کلبھوشن یادیو کے اعترافی بیان کی ویڈیو جاری کی گئی۔

اپریل 2018ء میں کلبھوشن یادیو کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کروائی گئی، جس کے بعد فوجی عدالت نے بھارت جاسوس کو ملک میں دہشتگردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنا دی۔

گزشتہ سال مئی میں بھارت نے اپنے جاسوس کلبھوشن سنگھ یادیو کی پھانسی رکوانے کے لیے عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کر دی تھی۔ 15 مئی کو بھارتی درخواست پر سماعت کا آغاز ہوا، اس کے بعد دونوں جانب کا موقف سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم عالمی عدالت اںصاف نے بھارت کی درخواست پر اٹھارہ سے اکیس فروری تک اس مقدمے کی سماعت کی تھی، جس کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں