بھارت کیساتھ تجارت،بس سروس،تھر اورسمجھوتہ ایکسپریس بند کرنیکا فیصلہ

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھارت کیساتھ تجارتی مراسم ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اجلاس میں وزیر ریلوے شیخ رشید کے فیصلوں کی حمایت کرتے ہوئے تھر اور سمجھوتہ ایکسپریس بند کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں اہم فیصلہ کرتے ہوئے بھارت کیساتھ تجارت ختم کرنے کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں تھر اور سمجھوتہ ایکسپریس کو بھی بند کرنے کی منظوری دی گئی۔ خیال رہے کہ وزیر ریلوے شیخ رشید نے دونوں ٹرینیں بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جب تک وزیر ہیں، بھارت کیساتھ ٹرینوں کی آمدورفت شروع نہیں کرینگے۔

ادھر وزارت تجارت کا کہنا ہے کہ اس وقت دوطرفہ تجارت بھارت کے حق میں ہے۔ پاکستان اور بھارت کی سالانہ دو طرفہ تجارت کا حجم 2 ارب 12 کروڑ 40 لاکھ ڈالر جبکہ پاکستان کی درآمدات کا حجم 1 ارب 80 کروڑ ڈالر ہے۔ پاکستان کی بھارت کیلئے برآمدات کا حجم 32 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل قومی سلامتی کمیٹی نے بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارت معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

وفاقی کابینہ کے فیصلے کے بعد وزارت تجارت نے بھارت سے درآمدات اور برآمدات معطل کرنے کا آرڈر جاری کر دیا ہے۔امپورٹ اور ایکسپورٹ آرڈر میں ترمیم کا آرڈر بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ دو طرفہ تجارت کی معطلی کے فیصلے کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ ادھر وزیر مواصلات مراد سعید نے بتایا ہے کہ حکومت نے بھارت کیساتھ دوستی بس سروس بھی بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلے کے بعد بس سروس معطل کی گئی ہے۔

دوسری جانب ایم ڈی ٹورازم کارپوریشن انتخاب عالم نے متعلقہ افسران کو دوستی بس سروس کی بندش کے فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے۔ فیصلے کے مطابق لاہور سے امرتسر اور لاہور سے دہلی بھی بس سروس تاحکم ثانی بند رہے گئی۔ ذرائع کے مطابق دہلی سے آج بھارت کی بس لاہور آئی تھی، یہ ہی بس ہفتہ کو دہلی واپس جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں