کشمیر: ظلم کی انتہا، کرفیو برقرار،شہری محصور،خوراک ختم، ادویات ناپید

مقبوضہ کشمیر میں عید کے دوسرے روز بھی وادی کا لاک ڈاؤن ہے۔ سخت سکیورٹی کے باعث سڑکیں سنسان ہیں۔ مرکزی بازار اور شاہراؤں پر سکیورٹی فورسز کا سخت پہرہ ہے۔ جگہ جگہ رکاوٹیں لگنے کی وجہ سے شہروں گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

 کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نویں روز بھی سسکتی زندگی، جنت جیسی وادی جہنم بن گئی ہے، مودی قصائی کے ظلم کی وجہ سے ہر گھر میں دہائیاں ہیں۔ اشیائے خوردو نوش کا سٹاک ختم ہو گیا ہےبھوک سے تڑپتے افراد کیلئے پل پل گزارنا مشکل ہو گیا ہے۔ مریضوں کیلئے ادویات ناپید ہو گئی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پوری وادی میں سخت کرفیو کی وجہ سے دکانیں بند ہیں، دیواروں پر ’’گو انڈیا گو بیک‘‘ اور ’’ہم کیا چاہتے آزادی‘‘ کے نعرے لکھے ہیں۔ سرینگر میں تاریخ کا بدترین لاک ڈاؤن ہے۔ وادی دنیا کی سب سے بڑی جیل کا منظر پیش کر رہی ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں عید الاضحٰی کے موقع پر نماز پڑھی گئی نہ قربانی ہوئی۔ کشمیریوں نے بڑا مذہبی تہوار گھروں میں بند ہو کر گزارا۔ بیوپاری حضرات جانور نہ بکنے پر شدید پریشان نظر آئے، دلی یونیورسٹی میں کشمیری طلباء عید کے روز بھی اپنے گھروں سے دور رہے۔

جنت نظیر وادی گجرات کے قصائی کے ظلم کا شکار ہے، مقبوضہ کشمیر میں عید کی نماز ہوئی نہ قربانی، بیوپاری حضرات قربانی کے جانور لئے گاہکوں کا انتظار کرتے رہے لیکن کرفیو کی وجہ سے لوگوں کو گھروں سے نکلنے کی اجازت نہ ملی۔

کمیونی کیشن بلیک آؤٹ کی وجہ سے پیاروں سے رابطہ بھی ممکن نہ ہوا۔ کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس تاحال بند ہونے کی وجہ سے آن لائن اخبارات اپ ڈیٹ نہ کئے جا سکے، نو روز سے وادی کا رابطہ بیرونی دنیا سے منقطع ہے۔

حریت رہنما سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، سابق کٹھ پتلی رہنما فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی سمیت گزشتہ ہفتے میں نو سو افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

اُدھر ایم ڈی ایم کے جو تامل ناڈو سمیت دیگر انڈین ریاستوں میں متحرک پارٹی ہے۔ پارٹی چیف وائیکو کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال ایسی رہی تو کشمیر بھارت کیساتھ نکل جائے گا۔ صورتحال کو نارمل سطح پر لانا ہو گا۔ آئندہ تیس سال میں کشمیر بھارت کے ہاتھ سے جاتا دیکھ رہے ہیں۔ مجھے افسوس ہے جب ہم اپنے ملک کا 100 واں جشن منا رہے ہونگے اس وقت کشمیر ہمارے ساتھ نہیں ہو گا۔

دوسری طرف کانگریس کے سینئر رہنما ڈگ وجایا سنگھ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ اور نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت ڈوول صورتحال کی نزاکت سمجھیں اور کرفیو ختم کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی میڈیا میں کشمیر کی صورتحال کا ذکر بڑے لفظوں میں ہو رہا ہے۔ حکام نزاکت سمجھیں اور عالمی میڈیا کی خبروں کو دیکھیں بصورت دیگر یہی صورتحال خطرناک ہوتی چلی جائے گی۔ حکام سمجھیں کہ وہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہم منہ نہیں موڑ سکتے اور نہ ہی کشمیر میں ہندوؤں کی اکثریت آ سکتی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و بربریت پر ایران کی جانب سے خدشات کا اظہار کیا گیا۔ مسلمانوں کے مذہبی تہوار پر کشمیر میں سخت سیکیورٹی پر پریشانی ہے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ عباس موسوی کے مطابق بھارتی حکام وادی کی صورتحال کو جلد سے جلد نارمل صورتحال پر لائیں، حکام یقینی بنائیں کہ مقبوضہ وادی میں عوام معمول کے مطابق زندگی گزارسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں