بیرون ملک مقیم ہندوستانی بھی مظلوم کشمیریوں کے حق میں بولنے لگے

میڈیا رپورٹس کے مطابق جہاں ایک طرف عام ہندوستانی مودی سرکار کے خوف کی وجہ سے سچ بولنے سے گریزاں ہیں تو باہر بیٹھے ہندوستانی کشمیریوں کے حق میں بولنے لگے ہیں۔

غیر ممالک میں مقیم بھارتیوں نے نریندر مودی کے فیصلے کو وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی سازش قرار دیدیا ہے۔ لندن سکول آف اکنامکس کے شعبہ بین الاقوامی سیاست کے پروفیسر سمنترہ بوز نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے موجودہ صورتحال کا سامنا ہوتا تو میں بھی بندوق اٹھا لیتا۔ مودی حکومت نے بھارتی وفاق کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

ادھر کئی بھارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پہلے صدارتی حکم نامہ کے ذریعہ عشروں سے کشمیریوں کے حقوق سلب ہیں۔ مقبوضہ کشیمر کی حیثیت کا فیصلہ کشمیریوں اور مقامی سیاسی رہنماؤں کی مشاورت کے بغیر کرنا بھارتی وفاق پر ایک بدنما داغ ہے۔

انڈین تجریہ کار نیونیتا چھڈھا بہیرا کا کہنا ہے کہ فیصلہ پر خوشیاں منانے والے بھارتی اس کے مضر اثرات نہیں جانتے، اگر ایسا کسی دوسری بھارتی ریاست میں ہوا تو کیا حکومت ریاستی حکومت کو برطرف کرے گی؟

نیونیتا چھڈھا کا کہنا تھا کہ بھارت میں جمہوریت 1947ء کے مقابلے میں آج شدید خطرے میں ہے۔ دیکھنا ہو گا کہ بھارتی سپریم کورٹ اس چیلنج کس طرح نبرد آزما ہوتی ہے؟
 

اپنا تبصرہ بھیجیں