وزیراعظم ہو یا وزیراعلیٰ کام کرنیوالا عہدے پر رہے گا: فردوس عاشق

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے وزارت اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوش عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو تبدیل نہیں کیا جا رہا، وہ درویش صفت انسان ہیں، ہر شعبہ میں انقلابی اصلاحات لا کر عوام کے لئے آسانیاں پیدا کرنا وزیراعظم عمران خان کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم ہوں یا کوئی وزیراعلیٰ جو کام کرے گا وہی عہدے پر رہے گا، عثمان بزدار ذاتی خواہشات پر عہدے نہیں دے رہے۔

لاہور میں صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال اور ڈاکٹر یاسمین راشد کیساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کی ایک سالہ کارکردگی انتہائی تسلی بخش ہے، مہذب معاشروں میں حقیقی تبدیلی لانے کے لئے اصلاحات متعارف کروائی جاتی ہیں۔ ہر افسر کو اپنی کارکردگی بارے جواب دہ ہونا ہوگا، تحریک انصاف کی حکومت ہمیشہ عام آدمی کے مسائل کے حل کو فوکس کر کے پالیسیاں بناتی ہیں۔

اس موقع پر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ حکومت میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشن ایکٹ کے تحت پنجاب کے کسی بھی سرکاری ہسپتال کی نجکاری نہیں کر رہی بلکہ عوام کو صحت کے شعبہ میں مزید سہولیات پیدا کرنے کے لئے انقلابی اقدامات اٹھا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری کا خدشہ بالکل جھوٹ اور گمراہی کا فسانہ ہے۔ حکومت کسی بھی سرکاری ہسپتال میں ایک بیڈ پر سالانہ 45 لاکھ خرچ کررہی ہے۔ ہر ڈاکٹر اور پروفیسر ہسپتالوں میں فرائض پوری ایمانداری سے نبھانے کا حلف اٹھاتے ہیں۔

صوبائی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ ایم ٹی آئی ایکٹ لانے کا بنیادی مقصد صحت کے شعبہ میں انقلابی اصلاحات لا کر عام آدمی کے لئے بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ 2003ء میں لائے جانے والے ایکٹ میں کسی بھی سرکاری ہسپتا ل کو نہ ہی فنانشنل اختیارات دیئے گئے اور نہ ہی ایڈمنسٹریٹو، ایم ٹی آئی ایکٹ کے تحت سرکاری ہسپتالوں کی بہتر انتظامیہ لا کر آنے والے مریضوں کے لئے بہترین طبی سہولیات کو یقینی بنایا جائے گا۔

ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ سرکاری ہسپتالوں میں مشینری خراب یا کسی دوسری ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر دستیاب کر کے مسائل کو حل کیا جائے گا۔ ہسپتالوں میں میڈیکل اور ہسپتال ڈائریکٹرز کو تعینات کیا جائے گا جو ہسپتال کے تمام معاملات کے مکمل ذمہ دار ہوں گے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے 15ہزار سے زائد ڈاکٹرز کی بھرتی میرٹ پر کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 28اضلاع میں عام عوام کو صحت انصاف کارڈ تقسیم کئے جا چکے ہیں جسکے تحت ہیلتھ کارڈ کا حامل شخص دو سو سے زائد نجی ہسپتالوں سے 7 لاکھ 20 ہزار روپے تک کے مفت علاج معالجہ کی سہولت حاصل کرسکے گا-

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ایم ٹی آئی ایکٹ کے تحت تمام ٹیچنگ انسٹیٹیوشنز کا سالانہ تین بار آڈٹ کرایا جائے گا اور غفلت پر بورڈ آف گورنرز کو کسی بھی وقت تبدیل کیا جاسکے گا- اسی رپورٹ کو اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اور کارکردگی کی بناء پر ڈاکٹرز اور پروفیسرز کی ترقیاں کی جائیں گی۔

ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ حکومت نوکری دینے کے بعد کارکردگی پوچھنے کی سو فیصد حق بجانب ہوتی ہے، اس ایکٹ کے تحت سرکاری ہسپتالوں میں شام کے وقت آؤٹ ڈور چلانا چاہتے ہیں- مستحق مریضوں کے آؤٹ ڈور میں علاج معالجہ کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی-

صوبائی وزیر اطلاعات میاںاسلم اقبال کا کہنا تھا کہ میڈیکل انسٹیٹیوشنز ایکٹ کے بارے میں عوام میں ابہام پیدا کیا جا رہا ہے۔ حکومت عوام کا بجٹ عوام پر خرچ کرنے پر یقین رکھتی ہے- عوام کا بجٹ عوام کی امنگوں کے مطابق خرچ کیا جا رہا ہے۔ دنیا میں پرفارمنس آڈٹ ہوتا ہے اور پاکستان میں بھی تمام اداروں کا پرفارمنس آڈٹ ہونا چاہیے۔ حکومت شعبہ صحت میں ون لائن بجٹ دے کر آنے والے مریضوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔
 

اپنا تبصرہ بھیجیں