بابا وانگا کی چشم کشا پیشن گوئیاں

بابا وانگا جن کا اصل نام وانژلیا پاندوا دیمیتروا تھا بلغاریہ میں پیدا ہوئیں۔ بارہ سال کی عمر میں ان کی زندگی میں ایک حادثہ پیش آیا جب وہ ایک پراسرار بگولے کی زَد میں آ کر گم ہو گئیں اور کئی دنوں کے بعد اپنے خاندان کو ملیں لیکن آنکھوں میں مٹی بھر جانے کی وجہ سے اُن کی بصارت کم ہوتی چلی گئی۔ اس کے باوجود وہ کافی کچھ دیکھتی تھیں اور حیرت انگیز طور پر پیش گوئیاں کر کے لوگوں کی مدد کرنے لگیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق بابا وانگا کا انتقال 1996ء میں ہوا لیکن اس سے پہلے ہی وہ 2001ء میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے اور 2004ء میں سونامی، ایک سیاہ فام امریکی شہری کے امریکی صدر بننے اور 2010ء میں عرب دنیا میں ابھرنے والی انقلابی تحریکوں کے سلسلے ’عرب بہار‘ کی پیشین گوئی کر چکی تھیں۔

بابا وانگا کے مطابق 2016ء میں براعظم یورپ کے ملکوں کو مسلمان عسکریت پسندوں کے حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جن کے نتیجے میں یورپ کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ 2018 سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ چین دنیا کی بڑی اقتصادی طاقت بن جائے گا۔

2023ء سے متعلق انہوں نے پیش گوئی کی کہ زمین کے مدار میں تبدیلی آئے گی جو بہت معمولی ہو گی۔ سال 2028 سے متعلق انہوں نے کہا کہ انسان توانائی کا ایک نیا ذریعہ تلاش کر لے گا۔ اناج کی کمی ختم ہونا شروع ہو جائے گی اور سیارہ زہرہ کی طرف انسانی خلائی مشن روانہ کیا جائے گا۔

2033ء سے متعلق انہوں نے کہا کہ قطبین پر جمی برف پگھلنے سے سمندروں میں پانی کی سطح بلند ہو جائے گی۔ 2043 میں براعظم یورپ پر مسلمانوں کا کنٹرول ہو جائے گا، یورپ کے زیادہ تر حصے خلافت کے تحت آ جائیں گے، اس کا مرکز روم ہو گا۔

سال 2046 میں انسان اپنی مرضی کے مطابق انسانی اعضا بنا سکے گا، اعضا کی تبدیلی علاج کا اہم ذریعہ بن جائے گا۔ سال 2066 میں ایک مسجد پر حملہ ہونے کے بعد امریکہ ایک غیر معمولی ہتھیار استعمال کرے گا جس سے درجہ حرارت اچانک گر جائے گا۔
 

اپنا تبصرہ بھیجیں