پاکستانی نوجوانوں نے ٹک ٹاک بند کرنے کی صدائیں بلند کر دیں

سوشل میڈیا کی ٹک ٹاک ایپ پاکستان میں معاشرتی مسائل کیساتھ حادثات کا بھی باعث بن رہی ہے۔ ماہرین صحت کیساتھ سماجی ماہرین نے بھی نوجوانوں میں بڑھتے کریز کو خطرناک قرار دیا ہے۔

پاکستان میں نوجوانوں کے ہاتھ میں سمارٹ فون اور ایک ہی دھن ہے سوار ہے، نوجوان بھی ٹک ٹاک کی لت کا شکار ہو چکے ہیں، راتوں رات مشہور ہونے کی دوڑ میں خطرناک سٹنٹس کے لیے بھی ہر دم تیار رہتے ہیں۔

2016 میں بننے والی ٹاک ٹاک ایپ 2019 میں پاکستان میں متعارف ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے نوجوان ٹک ٹاک فیور میں مبتلا ہو گئے۔ ایک ویڈیو ہٹ تو راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر ہیں پہنچ جاتے لیکن آئے روز کے حادثات کے بعد نوجوان بھی کہتے ہیں اب ٹک ٹاک بندہو جانی چاہیے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2019ء کے دروان ٹک ٹاک ویڈیوز بناتے ہوئے 9 نوجوان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ ویڈیو بناتے ہوئے غلطی سے گولی چل گئی توکوئی ٹرین کے نیچے آ گیا۔ طبی ماہرین بھی اب ٹک ٹاک کو ایڈیکشن قرار دے رہے ہیں۔

نفسیاتی معالج ڈاکٹر رضوان تاج کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کی زندگی ٹک ٹاک سے بہت زیادہ متاثر ہوتی ہے، ایپ استعمال کرنے سے نوجوانوں کا بہت زیادہ وقت ضائع بھی ہوتا ہے۔ پڑھائی متاثر ہوتی ہے، صحت کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوتی ہیں اور توجہ ہٹ جاتی ہے۔ والدین کو خصوصی طور پر چاہیے کہ اپنے بچوں کو گائیڈ کریں۔ اپنے بچوں کو وقت بھی دیں اور دوستانہ تعلقات بنائیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک ایپ صحت کے مسائل کیساتھ معاشرتی بگاڑ کا بھی سبب بن رہی ہے اس پر پابندی عائد کرنے کے لیے سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے تاہم ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔
 

اپنا تبصرہ بھیجیں