چینی فوج نے بھارتی کرنل اور 20 سپاہی مار دیئے، متعدد فوجی لاپتہ

 چینی فوج نے لداخ میں سرحدی جھڑپ کے دوران بھارتی کرنل سمیت 20 فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ ایک ایسے موقع پر رونما ہوا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان کئی ہفتوں سے سرحد پر تناؤ جاری ہے اور فریقین کی جانب سے اضافے دستے سرحد پر تعینات کردیے گئے تھے۔

ساڑھے تین ہزار کلومیٹر طویل سرحد پر جوہری طاقت کے حامل دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان مستقل بنیادوں پر جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں، یہاں باقاعدہ طور پر سرحد پر حد بندی نہیں کی گئی لیکن کئی دہائیوں سے یہاں ایک بھی ہلاکت نہیں ہوئی تھی۔

بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت اور چین کے سرحد (لائن آف ایکچول کنٹرول) پر 45 سال میں پہلی بار ہلاکت ہوئی ہے، چین کی پیپلز لبریشن آرمی نے کرنل سمیت 20 جوانوں کو مارڈالا۔

بھارتی خبر رساں ادارے انڈیا ٹوڈے کے مطابق پہلے کہا جا رہا تھا کہ حملے میں تین فوجی مارے گئے تاہم یہ تعداد 20 ہے، یہ تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔  لڑائی کے بعد تاحال متعدد فوجی لاپتہ ہیں۔

بھارتی خبر رساں ادارے ’ٹائمز ناؤ‘ کے مطابق آخری مرتبہ اس سرحد پر 1975ء میں کشیدگی دیکھنے کو ملی تھی، اس وقت چین نے بھارتی فوج کے 4 اہلکاروں کو ہلاک کیا تھا۔

دریں اثناء بھارتی فوجیوں کے مرنے کے بعد اعلیٰ بھارتی عسکری قیادت کو لالے پڑ گئے ہیں، بھارتی آرمی چیف نروانے، چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو بریفنگ دی ہے، اس بریفنگ کے دوران تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق ہلاک ہونے والے بھارتی کرنل کا نام سنتوش بابا ہے، ان کا تعلق بہار رجمنٹ سے تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’ڈیلی ٹیلی گراف‘ کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) پر لڑائی کے بعد بھارتی فوج کے 34 سےزائد فوجی لاپتہ ہیں۔

بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی آرمی چیف نے سرحدی کشیدگی کے بعد پٹھان کوٹ ملٹری بیس کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔

ٹائمز ناؤ کے مطابق ایسی بھی اطلاعات مل رہی ہیں کہ متعدد بھارتی فوجی جو لاپتہ ہیں وہ لڑائی کے دوران دریا میں گر گئے جس کے بعد ان کی اموات ہوئی ہیں۔

 چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لیجیان ژاؤ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کہ بھارتی افواج نے پیر کو دو مرتبہ سرحد عبور کی اور چینی افواج پر حملہ کیا اور انہیں اشتعال دلایا جس کے بعد دونوں افواج کے درمیاں جھڑپیں ہوئی۔

ان کا کہنا ہے کہ بیجنگ نے دہلی سے اس معاملے پر سخت احتجاج کیا ہے، ہم انڈیا سے درخواست کرتے ہیں وہ ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرے اور سرحد پر موجود افواج کو روکے۔ سرحد عبور نہ کریں، اشتعال مت دلائیں اور کوئی ایسی یک طرفہ کارروائی نہ کریں جو کہ بارڈر کی صورت حال کو پیچیدہ کرے۔

ترجمان بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ پیر کی رات پرتشدد جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں بھارتی فوج کو ایک افسر اور دو سپاہیوں کا جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ دونوں فریقین کی سینئر فوجی قیادت اس وقت موقع پر موجود ہے تاکہ صورتحال کے تناؤ میں کمی لائی جا سکے۔

علاقے میں تعینات بھارتی افسر نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہاں فائرنگ بالکل نہیں ہوئی اور مرنے والے بھارتی افسر کرنل تھے۔

افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کوئی فائرنگ نہیں کی گئی، کسی قسم کا اسلحہ استعمال نہیں کیا گیا، یہ پرتشدد جھڑپیں ہاتھوں سے ہوئیں۔

بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ واقعہ تبت کے عین سامنے واقع لداخ کے علاقے میں وادی گلوان میں پیش آیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں